Al-Risala March 2020

آج کی نوجوان نسلیں

Al-Risala March 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (35 chapters)
  1. الرسالہ - March 2020
  2. فئۃ قلیلۃ، فئۃ کثیرۃ
  3. چیلنج، مواقع
  4. کتاب اور حکمت
  5. فرقان کیا ہے
  6. حالات کی رعایت
  7. محفوظ کا تحفظ
  8. دین کی عصری تفہیم
  9. اجتہاد کیا ہے
  10. فارم ، اسپرٹ
  11. دعوتی حکمت
  12. قولِ بلیغ
  13. آج کی نوجوان نسلیں
  14. ظلم کا بدلہ
  15. جدید مائنڈ سٹ
  16. فاجر کے ذریعے تائید ِ دین
  17. ایک تجربہ
  18. مسلم اور غیر مسلم تعلقات
  19. فکری آزادی کا فارمولا
  20. اسلام دورِ جدید میں
  21. مذہبی برداشت
  22. دوقرآنی آیات
  23. مسلح جہاد
  24. مسلمانوں کا مسئلہ
  25. وطن سے محبت
  26. جدید اسلوب کا ایک پہلو
  27. فریم ورک کا مسئلہ
  28. مثال کے بغیر
  29. بے خبری کا کیس
  30. جمہوریت کا نظام
  31. اتحاد ملّت
  32. کفر، تکذیب
  33. میل ملاپ کا سماج
  34. مثبت لٹریچر کی ضرورت
  35. ملّت کا احیا

آج کی نوجوان نسلیں

موجودہ زمانے کے نوجوانوں کا مسئلہ صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ ان کے ذہن میں کچھ مثبت سوالات ہیں۔ مگر ہمارے رہنما ان سوالات کے جوابات منفی انداز میں پیش کررہے ہیں۔ یہ ایک تضاد کی صورت حال ہے، اور یہی تضاد آج کے نوجوانوں کا اصل مسئلہ ہے۔ آج کا نوجوان بھٹکا ہوا نوجوان نہیں ہے، بلکہ وہ متلاشی (seeker) نوجوان ہے۔

بے لاگ تجزیہ بتاتا ہے کہ آج کل کے نوجوانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے بزرگوں نے ان کو یہ بتایا کہ دور جدید ایک مخالفِ مذہب دور ہے۔ اس سوچ کے تحت ہمارے بزرگوں نے نوجوانوں کو یہ ٹارگٹ دیا کہ وہ دور جدید کو بدلیں۔ اس بنا پر ہماری کئی نسلیں خود ساختہ نظریے کے تحت دور جدید سے لڑتی رہیں۔ لیکن عملاً ان کو ناکامی کے سوا کچھ اورنہیں ملا۔

اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ ہمارے بزرگ کھلے طور پر اعتراف کریں کہ ان کی نشاندہی غلط تھی۔ وہ اعلان کریں کہ دور جدید جو سائنس کی دریافتوں کے تحت بنا ہے، وہ ایک موافق مذہب دور تھا، لیکن ہمارے بزرگوں نے خلاف واقعہ طور پر اس کو مخالف مذہب دور کی حیثیت دے دی، اور ہماری جدید نسل نےبے فائدہ طور پر اس کے خلاف نظری یا عملی جنگ چھیڑ دی۔ اس کے نتیجہ میں مایوسی کے سوا ان کو کچھ اور نہیں ملا۔

اب کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ آج کے نوجوانوں کو یہ بتایا جائے کہ جدید دور ایک موافق مذہب دور ہے۔ جدید تہذیب ایک موافق مذہب تہذیب ہے۔ جدید دور نے ہمارے لیے نئے مواقع کھول دیے ہیں، جن کو اویل کرکے ہم تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ مثلاً قدیم دور توہمات کا دور (age of superstitions)تھا، آج کا دور حقائق کا دور ہے۔ قدیم دور جبر کا دور تھا، آج کا دور آزادی کا دور ہے، وغیرہ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے ہم نوجوانوں کو ایک امید بھرانیا آغاز دے سکتے ہیں۔