Al-Risala March 2016

شکایت بے جا

Al-Risala March 2016 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (38 chapters)
  1. الرسالہ - March 2016
  2. صحیح نقطۂ آغاز
  3. انٹلکچول ایمپاورمینٹ
  4. جذبۂ تعلم
  5. علم کی دوقسمیں
  6. صحیح طرزِ فکر
  7. بلندفکری
  8. پختگی کیا ہے
  9. کامل انسان
  10. مثبت فکر
  11. مثبت سوچ، منفی سوچ
  12. غصہ کا مثبت پہلو
  13. شخصیت کاارتقا
  14. شخصیت کی تعمیر
  15. جانچنے کا معیار
  16. علمی طرزِ استدلال
  17. منطقی طرزِ استدلال
  18. غلط جنرلائزیشن
  19. اختلاف کا مسئلہ
  20. اختلاف کے باوجود
  21. اختلاف ایک برکت
  22. اختلافِ رائے
  23. فکری تعدّد، فکری حریت
  24. ذہنی سانچہ
  25. تنقید کی دوقسمیں
  26. ہلاکت کیا ہے
  27. ذہنی کہر کا مسئلہ
  28. تخلیقی صلاحیت
  29. تخلیقی حل
  30. سکینہ کیا ہے
  31. حاضر دماغی
  32. شکایت بے جا
  33. دوآپشن کے درمیان
  34. تیسرا انتخاب
  35. ذہین انسان کا مسئلہ
  36. مسئلہ کا حل
  37. حقیقت پسندی، معیار پسندی
  38. اپنے آپ کو بچائیے

شکایت بے جا

برطانیہ کے ایک ممبر پارلیمنٹ اِناک پاویل (Enoch Powell) نے ان سیاسی لیڈروں پر تبصرہ کیا ہے جومیڈیا کی شکایت کرتے ہیں۔اُن کے نزدیک یہ شکایت بے جا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کسی سیاسی لیڈر کی میڈیا سے شکایت ایسی ہی ہے جیسے پانی کے جہاز کا ایک کیپٹن سمندر کی موجوں کی شکایت کرنے لگے:original + quote

A politician who complains about the media is like a ship’s captain complaining about the sea.

یہ تبصرہ بالکل درست ہے۔ مگر یہ صرف سیاسی لیڈر اور میڈیاکی بات نہیں، بلکہ وہ ہر انسان کے لیے عام ہے۔ کوئی بھی عورت یا مرد جب کسی کی شکایت کرتے ہیں تو حقیقت کے اعتبار سے اُن کی شکایت ایک بے جا شکایت ہوتی ہے وہ ایک ایسے معاملے کو شکایت کا معاملہ بنالیتے ہیں جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے شکایت کا معاملہ ہی نہیں۔اِس دنیا کا نظام فطرت کے اصول پر قائم ہے۔ فطرت کے اصول کے مطابق کسی انسان کو جس دنیا میں رہنا پڑتا ہے، وہ گویا ایک سمندر ہے۔ اجتماعی زندگی ہمیشہ موجوں سے بھرے ہوئے سمندر جیسی ہوتی ہے۔ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ ایسا ہوگا کہ ایک انسان کو موجوں سے سابقہ پیش آئے گا۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ ان موجوں کو اپنے لیے ایک چیلنج سمجھے۔ وہ موجوں کی شکایت کرنے کے بجائے یہ آرٹ سیکھے کہ وہ کس طرح کامیابی کے ساتھ اِن موجوں سے گزر سکتا ہے۔

زندگی میں موج یا چیلنج کا وجود کوئی برائی نہیں۔ وہ انسان کی بہتری کے لیے ہے، وہ اس لیے ہے کہ انسان کی تربیت کرے، وہ اِس لیے ہے کہ انسان کی عقل میں اضافہ کرے، وہ اِس لیے ہے کہ انسان کو اور زیادہ طاقتور بنائے۔ زندگی میں مشکلات کی حیثیت تجربہ کی ہے، اور تجربہ کے بغیر کبھی کوئی انسان مکمل نہیں ہوسکتا۔آدمی کو چاہئے کہ وہ تجربات سے سیکھے، وہ شکایات کی نفسیات سے آخری حد تک اپنے آپ کو بچائے۔