Al-Risala March 2014

حق کا اعتراف نہ کرنا

Al-Risala March 2014 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (18 chapters)
  1. الرسالہ - March 2014
  2. علم کی شہادت
  3. حق کا اعتراف نہ کرنا
  4. جنت کا تمدنی تعارف
  5. پیغمبر کا کردار
  6. نقطۂ آغاز
  7. سکون کا راز
  8. قرآن خوانی یا قرآن ڈسٹری بیوشن
  9. علم کی اہمیت
  10. ایک پیغمبر انہ اسوہ
  11. فکری تعدّد، فکری حریت
  12. آئڈیالوجی یا نظام
  13. دورِ شرک، دورِ الحاد
  14. استثنائی شخصیت
  15. ایک سبق آموز واقعہ
  16. برتر حساسیت
  17. ایک اور موقع
  18. سوال وجواب

حق کا اعتراف نہ کرنا

قرآن کی سورہ الجاثیہ کی ایک آیت یہ ہے: وَاٰتَیْنٰہُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْٓا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَہُمُ الْعِلْمُ ۙ بَغْیًۢا بَیْنَہُمْ ۭ اِنَّ رَبَّکَ یَقْضِیْ بَیْنَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ (45:17) یعنی ہم نے ان کو امرِ دین کے بارے میں کھلی دلیلیں دیں، پھر انھوں نے اختلاف نہیں کیا، مگر اس کے بعد کہ اُن کے پاس علم آچکا تھا، آپس کی ضد کی وجہ سے- بے شک تیرا رب قیامت کے دن اُن کے درمیان فیصلہ کردے گا، اُن چیزوں کے بارے میں جن میں وہ باہم اختلاف کرتے تھے-original + quote

قرآن کی اِس آیت میں پچھلے پیغمبروں کا ذکر ہے- اس میں بتایا گیا ہے کہ اِن پیغمبروں کے مخاطبین نے ہمیشہ منفی رسپانس دیا - یہ مخاطبین کون تھے- یہ سب پچھلے پیغمبروں کی امت تھے- ہر آنے والا نبی کسی نہ کسی سابق پیغمبر کی امت میں آیا- مثلاً حضرت نوح امت آدم میں آئے- حضرت ابراہیم امتِ نوح میں آئے- حضرت موسی امتِ اسرائیل میں آئے- حضرت مسیح امتِ موسی میں آئے- حضرت محمد امتِ ابراہیم میں آئے، وغیرہ- ہر بعد کو آنے والے نبی نے پچھلے نبی کی اصل ہدایت کو زندہ کرنا چاہا، مگر ہمیشہ ایسا ہوا کہ لوگوں کی اکثریت پیغمبر کی دعوت کا مثبت رسپانس دینے سے عاجز رہی-original + quote

علم آنے کے باوجود لوگوں نے اختلاف کیا — اِس آیت میں علم سے مراد وہ ہدایت ہے جو بعد کے پیغمبر کے ذریعے انھیں پہنچی تھی- اُن کے انکار کا سبب بغی تھا- بغی کا لفظی مطلب ہے: انحراف (transgression)- ہر نبی کی امت کی بعد کی نسلوں میں ابتدائی دین سے انحراف پیدا ہوتا ہے- اس کے بعد مزید ایسا ہوتا ہے کہ علما اور رہنما اپنی اپنی ریاست (leadership) قائم کرنے کے لیے مزید انحرافات کرتے ہیں- اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ امت بہت سے فرقوں میں بٹ جاتی ہے- یہ تمام لوگ نئے پیغمبر کی بات کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں- اِس انکار کا سبب یہ ہوتا ہے کہ ہر ایک یہ محسوس کرتاہے کہ اگر وہ نبی کی بات مانے تو اس کو اپنے خود ساختہ مذہب کے غلط ہونے کا اعتراف کرنا پڑے گا-original + quote