Al-Risala March 2011

کھونے میں پانا

Al-Risala March 2011 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (31 chapters)
  1. الرسالہ - March 2011
  2. اللہ سے محبت
  3. جنت کا استحقاق
  4. ہدایت اورضلالت
  5. سب سے بڑی یقین دہانی
  6. گروہی ہدایت
  7. تدبر قرآن
  8. مذہبی مضاہاۃ، سیاسی مضاہاۃ
  9. قومی مذہب
  10. قرآن فاتحِ عالم
  11. جہاد کیا ہے
  12. ابنِ تیمیہ کا موقف
  13. احیاءِ اسلام
  14. مسلم تاریخ کے تین دور
  15. امتِ محمدی کی ذمے داری
  16. دعوت، دعا
  17. مطالباتی سیاست کا نقصان
  18. غیر ِ خدا میں جینا
  19. رزرویشن کے بغیر
  20. ڈی کنڈیشننگ کا طریقہ
  21. اتباعِ یہود کا کیس
  22. حق کی تلاش
  23. افرادِ کار کی تیاری
  24. شتمِ رسول کا مسئلہ
  25. تحفظِ نبوت، تحفظِ کارِ نبوت
  26. اعتماد کی اہمیت
  27. کھونے میں پانا
  28. صحیح مشورہ، غلط مشورہ
  29. ایک عام کمزوری
  30. سوال وجواب
  31. خبرنامہ اسلامی مرکز — 209

کھونے میں پانا

انڈیا میں سول سروس کے امتحانات میں سب سے بڑا امتحان آئی اے ایس (IAS) سمجھتا جاتا ہے۔ یہ وہی امتحان ہے جس کو 1947 سے پہلے آئی سی ایس (ICS) کہاجاتا تھا۔ 2010 میں پورے انڈیا سے چار لاکھ امیدوار اِس امتحان میں شریک ہوئے۔ مئی 2010 میں اِس کا رزلٹ شائع ہوا ہے۔ اِس کے مطابق، آئی اے ایس کے اِس امتحان میں کشمیر کے ایک مسلم نوجوان ڈاکٹر شاہ فیصل (26 سال) نے ٹاپ کا درجہ حاصل کیا ہے۔

اِس کہانی کا ایک سبق آموز پہلو یہ ہے کہ ڈاکٹر شاہ فیصل کے والد غلام رسول شاہ کپواڑہ کے ایک گاؤں میں رہتے تھے۔ وہ اسکول کے ایک ٹیچر تھے۔ ایک بار کچھ ملٹنٹ وہاں آئے اور ان کے گھر میں ٹھہرنے کی فرمائش کی۔ غلام رسول شاہ نے ان کو اپنے گھر میںٹھہرانے سے انکار کردیا۔ اِس پر ملٹنٹ غصہ ہو گئے اور انھوں نے غلام رسول شاہ کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔

اِس کے بعد حالات کے دباؤ کے تحت ڈاکٹر شاہ فیصل کی فیملی گاؤں چھوڑکر سری نگر آگئی۔یہاں ان کے لیے، ان کی ماں کے الفاظ میں، ایک ہی آپشن تھا، اور وہ تھا سخت محنت اور یکسوئی (hard work and dedication) ۔ شاہ فیصل کے باپ کے ساتھ جو حادثہ پیش آیا، اُس نے ان کو عمل کا ایک نیا محرک(incentive) دے دیا۔ وہ زیادہ سنجیدہ اور زیادہ محنتی بن گئے۔ باپ کی ناگہانی موت نے اُن کو ایک نئی زندگی دے دی۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (7مئی 2010 ) کے رپورٹر نے درست طور پر لکھا ہے کہ — یہ دراصل ایک المیہ تھا جس نے شاہ فیصل کے خاندان کے لیے وسیع تر دنیا کی طرف ایک کھڑکی کھول دی:original + quote

It was the tragedy that opened a window to the wider world for the family (p. 1)

آدمی اگر مایوس نہ ہو تو ہر محرومی اس کے لیے ایک نئی یافت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔