Al-Risala June 2020

توازن یا ترجیح

Al-Risala June 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (32 chapters)
  1. الرسالہ - June 2020
  2. ہر ایک کے لیے خیر
  3. جدید اسپتال
  4. انسان کے لیے سبق
  5. اللہ کی معرفت
  6. حمد کلچر
  7. غضب، رحمت
  8. اہل جنت
  9. اللہ کو دھوکہ دینا
  10. بے خدا زندگی
  11. گوشۂ رحمت
  12. عافیت کا راز
  13. بگ برڈ تھنکنگ
  14. غلطیوں کی معافی
  15. بے مسئلہ انسان
  16. بددعا نہیں، دعا
  17. انسانی خیر خواہی
  18. اسلامی روحانیت
  19. پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم
  20. دین ِاسلام
  21. جہاد بالنفس
  22. انسان کا جسم
  23. خوف، بے خوفی
  24. آزادی، ڈسپلن
  25. پریکٹکل وزڈم
  26. اِینٹی سیلف انسان
  27. اخلاقیات کا معاملہ
  28. کامیابی اور ناکامی
  29. توازن یا ترجیح
  30. فطرت کا سبق
  31. شہد کی مکھی کا سبق
  32. سوال و جواب

توازن یا ترجیح

ماہ نامہ الرسالہ کے مضامین میں اکثر روحانیت (spirituality) پر زور دیا جاتا ہے۔ ایک صاحب جو ماہ نامہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں، اِن مضامین کو پڑھنے کے بعد ای میل کے ذریعے اُن کا ایک سوال موصول ہوا ہے۔ انھوں نے یہ سوال کیا ہے — زندگی کے مادی تقاضے بھی ہیں اور روحانی تقاضے بھی، پھر دونوں تقاضوں کے درمیان توازن (balance)کس طرح قائم کیا جائے:

How can one maintain a balance between spirituality and materialism?

جواب یہ ہے کہ توازن کا اصول غیر فطری اصول ہے۔ اکثر لوگ ’’توازن‘‘ کے تصور میںالجھے رہتے ہیں،چنانچہ وہ کبھی اپنی زندگی کے مختلف تقاضوں کے درمیان توازن قائم نہیں کرپاتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ذہنی تناؤ (tension)کا شکار ہوجاتے ہیں۔ توازن کا اصول غیر فطری ہونے کی وجہ سے ایک ناقابلِ حصول چیز ہے، اور جو چیز ناقابلِ حصول ہو، اس کے بارے میں صحیح رویہ صرف یہ ہے کہ اس کو علیٰ حالہ قبول کرلیا جائے۔

فطری قانون کے مطابق، زندگی کا نظام ترجیح (priority) کے اصول پر قائم ہے، یعنی زندگی کے ایک تقاضے کو اولین (primary) اہمیت دینا اور دوسرے تقاضے کو ثانوی (secondary) درجے پر رکھنا۔ اِس معاملے میں یہی واحد قابلِ عمل فارمولا ہے۔ اِس کے سوا کوئی دوسرا فارمولا سرے سے قابلِ عمل ہی نہیں۔

روحانیت اور مادیت کے معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ ترجیح کا اصول اختیار کیا جائے ، یعنی روحانیت کو اولین حیثیت دی جائے اور مادیت کو ثانوی حیثیت۔ اِس معاملے میں یہی حقیقت پسندی ہے۔ جو آدمی اِس حقیقت کو نہ مانے، اُس کو اِس کی بھاری قیمت دینی پڑے گی۔ وہ یہ کہ ایسا شخص ہمیشہ ذہنی تناؤ میں جیے گا، وہ ہمیشہ ذہنی سکون (peace of mind) سے محروم رہے گا۔