Al-Risala June 2020

جدید اسپتال

Al-Risala June 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (32 chapters)
  1. الرسالہ - June 2020
  2. ہر ایک کے لیے خیر
  3. جدید اسپتال
  4. انسان کے لیے سبق
  5. اللہ کی معرفت
  6. حمد کلچر
  7. غضب، رحمت
  8. اہل جنت
  9. اللہ کو دھوکہ دینا
  10. بے خدا زندگی
  11. گوشۂ رحمت
  12. عافیت کا راز
  13. بگ برڈ تھنکنگ
  14. غلطیوں کی معافی
  15. بے مسئلہ انسان
  16. بددعا نہیں، دعا
  17. انسانی خیر خواہی
  18. اسلامی روحانیت
  19. پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم
  20. دین ِاسلام
  21. جہاد بالنفس
  22. انسان کا جسم
  23. خوف، بے خوفی
  24. آزادی، ڈسپلن
  25. پریکٹکل وزڈم
  26. اِینٹی سیلف انسان
  27. اخلاقیات کا معاملہ
  28. کامیابی اور ناکامی
  29. توازن یا ترجیح
  30. فطرت کا سبق
  31. شہد کی مکھی کا سبق
  32. سوال و جواب

جدید اسپتال

Modern Hospital, Centre of New Hope

ماڈرن ہاسپٹل کیا ہے۔ انسانی جسم، اور اس کے فنکشن کو سمجھنے کا مقام ہے۔جہاں میڈیکل سائنس کی بنیاد پر انسانی جسم کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔پہلے زمانے میں علاج کا تصور سینہ بسینہ منتقل ہونے والے روایتی علاج پر قائم تھا۔ سائنس نے میڈیکل دنیا میں یہ تصور دیا کہ ماڈرن میڈیکل ٹکنالوجی کے ذریعے جسمانی فنکشن کا مشاہدہ کرکے اس کا علاج کیا جائے:

Medical science covers many subjects which try to explain how the human body works. Starting with basic biology it is generally divided into areas of specialisation such as anatomy, physiology and pathology with some biochemistry, microbiology, molecular biology and genetics.

انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوجاتا ہے۔ اس کاؤنٹ ڈاؤن کی تکمیل پر انسان کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ اب انسان کا کام یہ ہے کہ وہ کاؤنٹ ڈاؤن کی اس مدت کو اچھی طرح مینٹین (maintain) کرے، تاکہ وہ زیادہ مدت تک اپنے آپ کو قابل کار بنائے رکھے۔ جدید اسپتال اسی انسانی انجینئرنگ کا سینٹر ہے۔ لیکن یہ سینٹر خواہ کتنا ہی اچھی طرح عمل کرے، اس کے ساتھ یہ ضروری ہوتا ہے کہ انسان کا خود اپنا عمل صحیح سمت میں جاری رہے، اگر انسان کے عمل اور خارجی میکنزم میں موافقت نہ رہے، تو اس بندوبست کا بہت جزئی فائدہ حاصل ہوگا۔

اس معاملے میں انسان کا خود اپنا رول یہ ہے کہ وہ ہیلتھ کے فطری قوانین کو سمجھے، اور اس کو بھرپور طور پر اپنی زندگی میں برقرار رکھے۔ اگر انسان اپنے حصے کا یہ کام نہ کرے تو خارجی انجینئرنگ اس کے لیے بہت کم مفید ثابت ہوگی۔ مثلاً انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں کوئی مضر عادت نہ اپنائے۔ وہ کسی غیر ضروری چیز کا شائق نہ بن جائے۔ وہ ہمیشہ اپنی حد کو جانے، اور اپنی فطری حد کے اندر ہر کام انجام دے۔ وہ اپنی زندگی میں بقدر ضرورت پر قانع رہے، نہ کہ زیادہ سے زیادہ (more and more) کا طالب بن جائے۔وہ حرص کے بجائےقناعت کا طریقہ اختیار کرے۔