Al-Risala June 2019

تالیفِ قلب

Al-Risala June 2019 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (42 chapters)
  1. الرسالہ - June 2019
  2. قرآن کا مہینہ
  3. پوسٹ رمضان پلاننگ
  4. مجتہدانہ اسلوبِ دعوت
  5. دعوت کے تجربات
  6. جہادِ کبیر
  7. نیا رجحان
  8. آفاقی سوچ
  9. فتویٰ یا دعوت
  10. تالیفِ قلب
  11. عسر میں یُسر
  12. دعوتی ماحول
  13. خیرخواہانہ دعوت
  14. جنت کی ضرورت
  15. مدعو انتظار میں
  16. خدا کا مستند پیغام
  17. سماجی میل جول
  18. تالیفِ قلب کی ایک مثال
  19. دعوتی تڑپ
  20. دعوت کیا ہے
  21. قول بلیغ
  22. فکری مستوی کے مطابق کام
  23. مذہب کی ضرورت
  24. دعوتی تیاری
  25. اکرامِ مسلم، اکرامِ انسانیت
  26. جدید دنیا میں دعوتی امکانات
  27. دعوت سے غفلت
  28. خواص میں دعوت
  29. خواص انتظار میں
  30. ایک دعوتی گفتگو
  31. دعوت کا ماحول
  32. مستقبل کو دیکھنا
  33. معاندانہ انداز، نارمل انداز
  34. بالواسطہ دعوت
  35. پیغمبر کا مشن
  36. انسانیت پنا، امت پنا
  37. دعوت کاایک عملی نمونہ
  38. جنت کا تعارف
  39. نفرت کی نفسیات
  40. سیاحت: دعوتی سفر
  41. مومن ایک با اصول انسان
  42. سوال و جواب

تالیفِ قلب

برطانیہ کے سفر (ستمبر 2001)کا ایک واقعہ یہاں قابلِ ذکر ہے۔ ایک تعلیم یافتہ غیر مسلم نے بتایا کہ ایک مسلمان عالم ایک بار ان کے یہاں آئے۔ یہاں کمرے کی دیوار پر ایک کیلنڈر لٹک رہا تھا، جس پر ایک ہندو دیوی کی تصویر چھپی ہوئی تھی۔ مذکورہ شخص نے بتایا کہ نماز کا وقت آیا، تو مولانا صاحب نے اپنی شیروانی اتار کر کیلنڈر کے اوپر لٹکادی۔ اس وجہ سے اس کی تصویر شیروانی کے نیچے چھپ گئی۔ اس کے بعد مولانا صاحب نے میرے کمرے میں نماز ادا فرمائی۔

اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے کہا کہ مولانا موصوف نے جو کچھ کیا بجائے خود درست تھا۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک طرف یہ نمونہ ہے، اور دوسری طرف یہ مختلف مثال ہے کہ قدیم مکہ میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم وہاں روزانہ نماز ادا کرتے، مگر آپ نے ایسا نہیں کیا کہ پہلے ان بتوں کے اوپر چادر لٹکائیں، اور پھر وہاں نماز ادا کریں۔unverified

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل سے ایک اہم دعوتی حکمت معلوم ہوتی ہے۔ دعوت کا کام کرنے کے لیے ایک بے حد ضروری شرط یہ ہے کہ داعی کے اندر ناخوشگوار باتوں کو نظر انداز کرنے کا مزاج موجود ہو۔ وہ ان چیزوں سے پاک ہو، جو مدعو کی نظر میں کٹرپن، تنگ نظری، اور عدمِ رواداری بن جاتی ہے۔ دعوتی کام کے لیے رواداری لازمی شرط ہے۔ داعی کے اندر اگر رواداری کا مزاج نہ ہو تو وہ کامیاب داعی نہیں بن سکتا۔