Al-Risala June 2018

قرآن سے نصیحت

Al-Risala June 2018 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (31 chapters)
  1. الرسالہ - June 2018
  2. قرآن سے نصیحت
  3. قرآن کی دو آیتیں
  4. بسم اللہ سے آغاز
  5. اللہ اکبر
  6. انابت الی اللہ
  7. جنت کا حصول
  8. جنت کا تجربہ
  9. جنت کی زندگی
  10. جنت کی تلاش
  11. اسفل سافلین کیوں
  12. تاریخ کا اعادہ
  13. دو دنیائیں
  14. سپورٹنگ رول
  15. بے نقص کائنات
  16. پیغمبر اسلام — شخصیت کے چند نمونے
  17. قرآن کا مطالعہ
  18. تفسیر قرآن
  19. درس قرآن
  20. قرآن فہمی کا اسلوب
  21. قرآن کی ہدایت
  22. قرآن کا انقلاب
  23. قرآن کا مشن
  24. کتابِ ہدایت
  25. دو مختلف انجام
  26. قولِ بلیغ
  27. فہمِ دین
  28. فطرت کا ایک قانون
  29. داعی کی حفاظت
  30. ایک با اصول انسان
  31. خبرنامہ اسلامی مرکز — 260

قرآن سے نصیحت

قرآن فہمی کے بارے میں دو آیتیں ان الفاظ میں آئی ہیں: کِتَابٌ أَنْزَلْنَاہُ إِلَیْک َ مُبَارَکٌ لِیَدَّبَّرُوا آیَاتِہِ وَلِیَتَذَکَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (38:29)۔یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ دوسری آیت کے الفاظ یہ ہیں:کِتَابٌ فُصِّلَتْ آیَاتُہُ قُرْآنًا عَرَبِیًّا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ (41:3)۔ یعنی یہ ایک کتاب ہے جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں، عربی زبان کا قرآن، ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔ان دونوں آیتوں کے اسلوب پر غور کرنے سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ قرآن فہمی کی دو سطحیں (levels) ہیں۔ ایک ہے وہ سطح جو عربی زبان بخوبی جاننے سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ قرآن فہمی کا علمی درجہ ہے۔ اس سطح پر جو آدمی قرآن کو پڑھے، اس کو قرآن کی باتوں سے معنوی واقفیت حاصل ہوجائے گی۔ قرآن فہمی کی دوسری سطح وہ ہے، جو تدبر کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ اس دوسری سطح پر قرآن فہمی کے ذریعے آدمی کو گہری رہنمائی حاصل ہوتی ہے، جس کو نصیحت کہاجاتا ہے۔original + quote

مثلاً قرآن میں ماہ رمضان کا بیان ہے، اس کے بعد فرمایا: فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ (2:185)۔ عربی زبان سے واقفیت رکھنے والا آدمی جب اس آیت کو پڑھے گا تو وہ آیت کا فقہی مفہوم جان لے گا۔ یعنی رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنا فرض ہے۔اس سلسلہ بیان کی اگلی آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں تو میں نزدیک ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے، تو چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں، تاکہ وہ ہدایت پائیں(2:186)۔ اس آیت کو پڑھ کر عربی زبان جاننے والایہ سمجھ لے گا کہ اللہ سے سوال کرنے والا آدمی اللہ سے قریب ہے، اور اس کے سوال کا جواب دیتا ہے۔ لیکن یہ جواب کس صورت میں آتا ہے۔ یہ مجرد عربی زبان جاننے سے معلوم نہیں ہوتا، بلکہ غور وفکر کرنے سے اس کا ادراک ہوسکتا ہے۔ یعنی آیت پر تدبر کرنے کے ذریعے سے۔original + quote