Al-Risala June 2017

یہ قرآن کی فضیلت نہیں

Al-Risala June 2017 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (32 chapters)
  1. الرسالہ - June 2017
  2. رمضان کا مہینہ شکر کا مہینہ
  3. اعتکاف کا مہینہ
  4. ہزار مہینے کے برابر
  5. یہ قرآن کی فضیلت نہیں
  6. قرآن کی تفسیر
  7. قرآن، کتاب مہجور
  8. اعلیٰ معرفت
  9. اللہ کے ننانوے نام
  10. عطیات خداوندی
  11. اللہ کے محبوب بندے
  12. مومن قوی، مومن ضعیف
  13. اپنی تعمیر آپ
  14. انسان کی تخلیق
  15. جنت کس کے لیے
  16. جنت انسان کا ہیبیٹاٹ
  17. استعداد بڑھایے
  18. ابلیس کا طریقہ
  19. انسان اللہ کا امین
  20. موت کا مثبت تصور
  21. ری ایکشن کلچر
  22. دعوت سے بے خبری
  23. اجتہادی خطا کا معاملہ
  24. اصل مسئلہ
  25. بقدر استطاعت کا اصول
  26. دلیل کے بغیر
  27. مصیبت کا قانون
  28. ہر چیز ہر ایک کے لیے
  29. منفی سوچ نہیں
  30. چلو یہ بھی ٹھیک ہے
  31. غلطی کو سنبھالنا
  32. خبرنامہ اسلامی مرکز — 252

یہ قرآن کی فضیلت نہیں

ایک عالم نے قرآن پرایک مضمون شائع کیا ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں۔ ارشاد ربانی ہے:وَلَا رَطْبٍ وَلَا یَابِسٍ إِلَّا فِی کِتَابٍ مُبِینٍ (انعام59:)۔ یعنی کوئی خشک و تر چیز ایسی نہیں جو روشن کتاب (قرآن کریم) میں موجود نہ ہو۔ اس آیت کریمہ سے پتا چلا کہ زمین و آسمان کی ساری موجودات، بحر و بر، شجر و حجر، جمادات و نباتات، جن و انس، خاک کے ذرے، پانی کے قطرے، حیوانات اور دیگر مخلوقات، الغرض عالم کی پست و بالا کی جس چیز کا تصور کر لیجیے، قرآن نے صرف دو لفظ ’’ولا رطب و لا یابس‘‘ کہہ کر کائنات کے ایک ایک ذرے کا احاطہ کرلیا ہے اور ان سب چیزوں کا علم قرآن میں موجود ہے۔original + quote

یہ قرآن کا صحیح تعارف نہیں ہے۔ قرآن کوئی انسائیکلوپیڈیائی معلومات کی کتاب نہیں، قرآن ربانی ہدایت کی کتاب ہے۔ قرآن زندگی کی حقیقت کو بتاتا ہے۔ قرآن یہ بتاتا ہے کہ ہم دنیا میں کس طرح زندگی گزاریں کہ آخرت میں اللہ ہمارے لیے ابدی جنت میںداخلے کا فیصلہ فرمائے۔

قرآن معرفت کی کتاب ہے، وہ معلومات (information)کی کتاب نہیں۔ قرآن میں معلوماتی باتوں کا ذکر بھی ہے، لیکن وہ ہدایت ربانی کو بتانے کے لیے ہے، نہ کہ مجرد معلومات دینے کے لیے۔ مثلاً انسان کے جسم پر کتنے بال ہیں ، یہ ایک معلوماتی نوعیت کی چیز ہے۔ اس کو قرآن میں نہیں بتایا گیا ہے۔ البتہ قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کا جسم نہایت بامعنی جسم ہے۔ اس کی صورت گری نہایت حکمت کے انداز میں کی گئی ہے۔ انسان اگر اپنے جسم کی ساخت پر غور کرے تو وہ خالق کو اور تخلیق کی حکمت کو دریافت کرے گا، جو اس کے ایمان میں اضافہ کا سبب بن جائے گا۔ قرآن کی فضیلت خود قرآن کے مقصد تنزیل کے اعتبار سے معلوم ہوتی ہے، نہ کہ کسی انسان کے خودساختہ معیار کے اعتبار سے، اور قرآن کا معیار یہ ہے کہ اس پر ہدایت ربانی کے اعتبار سے غور کیا جائے، قرآن میں تدبر کے ذریعے کلمات اللہ اور آلاءاللہ کی معرفت حاصل کی جائے۔