Al-Risala June 2015

دفاع یا دعوت

Al-Risala June 2015 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (25 chapters)
  1. الرسالہ - June 2015
  2. فطرت کا ایک قانون
  3. شیطان کا وسوسہ
  4. ایک سنت ِ رسول
  5. معرفت ایک تخلیقی عمل
  6. دعوت حق کے دو دَور
  7. مطلوب رہنمائی
  8. حقیقت پسندانہ پالیسی کا کرشمہ
  9. دورِ مواصلات
  10. دعوت فرضِ عین یا فرضِ کفایہ
  11. شہادت امتِ مسلمہ کا مشن
  12. قرآن کتاب ِتدبر
  13. گلوبل کمیونی کیشن کا دَور
  14. قرآن کی حفاظت
  15. امت کا زوال
  16. نسخ کیا ہے
  17. عورت اور مرد کا تعلق
  18. دفاع یا دعوت
  19. قرآن وسنت
  20. بدترازحیوان
  21. علم کا سفر
  22. موت کے دروازے پر
  23. شکایت، اعتراف
  24. حقیقت پسندانہ سوچ
  25. خبر نامہ اسلامی مرکز— 234

دفاع یا دعوت

سرولیم میور(William Muir)ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ انگریز تھا، جو برٹش حکومت کے دور میں غیر منقسم ہندستان کی ایک ریاست کا گورنر مقرر ہوا- سرولیم میور نے ایک کتاب لکھی، جس کا نام ’’لائف آف محمد‘‘(The Life of Mahomet)تھا- یہ انگریزی کتاب 1866 میں چار جلدوں میں شائع ہوئی-

علماء کے نزدیک یہ کتاب اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ’’زہر‘‘ پھیلانے والی کتاب تھی- لوگ مصنف کو دشمن اسلام قرار دے کر اس کے سخت خلاف ہوگئے- سرسید احمد خاں کو اس پر غصہ آیا، انھوں نے اس کتاب کا اردو ترجمہ کروایا، پھر اس کے خلاف اردو زبان میں ایک کتاب لکھی، جو خطبات احمدیہ کے نام سے شائع ہوئی-

اس طرح کے کام کو دفاع اسلام کا عنوان دے کر بہت اہم کام سمجھاجاتا ہے، مگر یہ طریقہ سنت کے مطابق نہیں- سنت ِ رسول کے مطابق اصل کرنے کاکام دعوت اسلام ہے، نہ کہ دفاع اسلام- یعنی مصنف کے لئے دعا کرنا، اس سے مل کر اس کی غلط فہمیوں کو دور کرنا- اس موضوع پر مثبت انداز میں تعارفی کتاب تیار کرکے چھاپنا- انگریزوں میں اور دوسرے لوگوں میں پر امن دعوتی مشن جاری کرنا- سنت رسول کے مطابق یہی کرنے کا اصل کام ہے- مگر یہ اصل کام نہ سرسید احمد خاں نے کیا، اور نہ علماء نے-unverified

سنت ِ رسول کے مطابق اسلام کا اصل مشن یہ نہیںہےکہ مفروضہ دشمنان اسلام کے خلاف مناظرانہ انداز میں تقریریں کی جائیں، جوابی انداز میں کتابیں شائع کی جائیں، یہ سب رد عمل (reaction) کے طریقے ہیں، اور رد عمل اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں- اس قسم کے حامیان اسلام کو نتیجہ (result) کے اعتبار سے غور کرنا چاہئے، یعنی انھیں یہ جائزہ لینا چاہئے کہ ان کی جوابی کوششوں کا مثبت نتیجہ کیا ہوا، باعتبار نتیجہ اس سے اسلام کو فروغ ہوا یا نفرت کو فروغ ہوا-