Al-Risala June 2015

ایک سنت ِ رسول

Al-Risala June 2015 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (25 chapters)
  1. الرسالہ - June 2015
  2. فطرت کا ایک قانون
  3. شیطان کا وسوسہ
  4. ایک سنت ِ رسول
  5. معرفت ایک تخلیقی عمل
  6. دعوت حق کے دو دَور
  7. مطلوب رہنمائی
  8. حقیقت پسندانہ پالیسی کا کرشمہ
  9. دورِ مواصلات
  10. دعوت فرضِ عین یا فرضِ کفایہ
  11. شہادت امتِ مسلمہ کا مشن
  12. قرآن کتاب ِتدبر
  13. گلوبل کمیونی کیشن کا دَور
  14. قرآن کی حفاظت
  15. امت کا زوال
  16. نسخ کیا ہے
  17. عورت اور مرد کا تعلق
  18. دفاع یا دعوت
  19. قرآن وسنت
  20. بدترازحیوان
  21. علم کا سفر
  22. موت کے دروازے پر
  23. شکایت، اعتراف
  24. حقیقت پسندانہ سوچ
  25. خبر نامہ اسلامی مرکز— 234

ایک سنت ِ رسول

قال ابن عمر لعائشة: أخبرینا بأعجب شیء رأیتہ من رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم، فبکت وقالت: کلّ أمرہ کان عجباً (الترغیب والترہیب: 666) یعنی عبد اللہ ابن عمر نے عائشہ سے کہا کہ مجھ کو یہ بتائیے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سب سے عجیب چیز کیا دیکھی- یہ سن کر وہ رو پڑیں، اور کہا کہ آپ کی ہر بات عجیب ہوتی تھی- عجیب یہاںاپنے لفظی معنی میں نہیں ہے بلکہ ایک اعلی ذہنی صفت کے معنی میں ہے- وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات میں ایک نیا پن ہوتا تھا، آپ کی ہر بات تعجب خیز حد تک رواجی فکر سے مختلف ہوتی تھی-original + quote

غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تخلیقی فکر (creative thinking)کا معاملہ تھا- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کامل درجے میں تخلیقی ذہن (creative mind) کی صفت رکھتے تھے- آپ کی اس صفت نے آپ کو اس قابل بنا دیا تھا کہ آپ چیزوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھ سکیں- آپ چیزوں میں نئے پہلو کی نشاندہی کریں- آپ چیزوں کو نئے زاویے سے دیکھیں، اور دوسروں کو اسے بتائیں-

یہ تخلیقی فکر دراصل تدبر اور تفکر کا نتیجہ ہوتا ہے- آپ کی صفات کے بارے میں ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: کان ہو طویل الصمت دائم الفکر متواتر الأحزان (تاریخ دمشق لابن عساکر: 3/337)یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک خاموش رہتے تھے، آپ ہمیشہ غوروفکر میں رہتے تھے، آپ مسلسل طورپر غم کی کیفیت میں ہوتے تھے-original + quote

اس روایت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت معلوم ہوتی ہے، یعنی مسلسل طورپر غور وفکر (contemplation)کی حالت میں رہنا- غوروفکر کا یہ معاملہ صرف خصائص نبوی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ رسول اللہ کی ایک قابلِ تقلید سنت کا معاملہ ہے- اس غور وفکر سے آدمی کے اندر گہرائی آتی ہے- یہ فکری گہرائی آدمی کے اندر وہ صفت پیدا کرتی ہے، جس کو تخلیقی فکر کہاجاتا ہے- ایسا آدمی اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ چیزوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ دریافت کرے، وہ چیزوں کے نئے پہلو سے لوگوں کو باخبر کرے-original + quote