Al-Risala June 2013

موت کی یاد کا مثبت پہلو

Al-Risala June 2013 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (23 chapters)
  1. الرسالہ - June 2013
  2. حامل ِ کتاب قوم
  3. موت کی یاد کا مثبت پہلو
  4. دین کے بدلے دنیا
  5. انقلابی اسپرٹ
  6. سچائی کی سیٹ
  7. قانونِ فطرت کو جانیے
  8. اللہ کے دشمن
  9. انگریزی تعلیم
  10. ربوبیت: کائنات میں ربانی تنظیم
  11. سادہ فارمولا
  12. پیرانوئیا کی نفسیات
  13. اسلام اور مسلمان
  14. اسلام کے نام پر سیاست
  15. قبولِ اسلام کا ایک واقعہ
  16. افرا د سازی کی اہمیت
  17. عبرت یا عذاب
  18. ناعاقبت اندیشانہ اقدام
  19. صلاحیت کی قدر دانی
  20. اقدام کی شرط
  21. سب سے بڑی قربانی
  22. الرسالہ مشن
  23. سوال وجواب

موت کی یاد کا مثبت پہلو

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أکثروا ذکر ہادم اللذات، الموت (الترمذی، رقم الحدیث: 2307) یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو جولذتوں کو ڈھادینے والی ہے-original + quote

اِس حدیث میں ’ہادم‘ (ڈھا دینے والا) کا لفظ سلبی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ ایجابی معنی میں ہے، یعنی موت کی یاد صرف موت کی یاد نہیں، بلکہ اس کا ایک بہت بڑا مثبت پہلو ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ موت اِس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دنیا کی تمام لذتیں مٹ جانے والی ہیں، اِس لیے تم دنیا کی لذتوں کے بجائے، آخرت کی لذتوں کو اپنی سوچ کا مرکز بناؤ، کیوں کہ آخرت کی لذتیں ہمیشہ باقی رہنے والی ہیں (فاٰثروا ما یبقىٰ على ما یفنىٰ)-original + quote

انسان ایک لذت پسند مخلوق ہے- انسان ہر دور میں اپنی لذتوں کی تسکین حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے- قدیم زمانے میں لذت کے سامان بہت محدود تھے- موجودہ زمانے میں لذت کے سامانوں کی کثرت ہوگئی ہے- اِس اعتبار سے، موجودہ زمانے کو کنزیومر ازم (consumerism) کا زمانہ کہا جاسکتا ہے- موجودہ زمانے میں کنزیومرازم کا دور آیا تو انسان مزید اضافہ کے ساتھ اپنی لذتوں کی تسکین حاصل کرنے کی کوشش\ میں لگ گیا-

مگر تاریخ کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اِس معاملے میں انسان کا کیس کامل محرومی کا کیس ہے، انسان نہ قدیم روایتی زمانے میں تسکین کا سامان حاصل کرسکا، اور نہ جدید کنزیومرازم کے زمانے میں- گویا اِس دنیا میں طالب موجود ہے، مگر یہاں اس کا مطلوب موجود نہیں- جس آدمی کا شعور زندہ ہو، اس کے لیے موت اس بات کی یاد دہانی بن جائے گی کہ جس مطلوب کو میں قبل از موت دور میں نہ پاسکا، وہ مطلوب خالق کے پلان کے مطابق، موت کے بعد کے دور میں رکھ دیاگیا ہے- ایسے آدمی کے لیے موت کا تصور اس کی زندگی کے کورس کو متعین کرنے والا بن جائے گا-