Al-Risala June 2013

حامل ِ کتاب قوم

Al-Risala June 2013 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (23 chapters)
  1. الرسالہ - June 2013
  2. حامل ِ کتاب قوم
  3. موت کی یاد کا مثبت پہلو
  4. دین کے بدلے دنیا
  5. انقلابی اسپرٹ
  6. سچائی کی سیٹ
  7. قانونِ فطرت کو جانیے
  8. اللہ کے دشمن
  9. انگریزی تعلیم
  10. ربوبیت: کائنات میں ربانی تنظیم
  11. سادہ فارمولا
  12. پیرانوئیا کی نفسیات
  13. اسلام اور مسلمان
  14. اسلام کے نام پر سیاست
  15. قبولِ اسلام کا ایک واقعہ
  16. افرا د سازی کی اہمیت
  17. عبرت یا عذاب
  18. ناعاقبت اندیشانہ اقدام
  19. صلاحیت کی قدر دانی
  20. اقدام کی شرط
  21. سب سے بڑی قربانی
  22. الرسالہ مشن
  23. سوال وجواب

حامل ِ کتاب قوم

قرآن میں قدیم اہلِ کتاب (یہود) کے حوالے سے فطرت کے ایک قانون کو بتایا گیا ہے - آیت کے الفاظ یہ ہیں: مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْہَا کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا (62:5) یعنی جن لوگوں کو تورات کا حامل بنایا گیا، پھر انھوں نے اس کو نہیں اٹھایا، اُن کی مثال اُس گدھے کی سی ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو-original + quote

یہ تمثیل صرف سابق اہلِ کتاب (یہود) کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ وہ ماضی کے تجربے کی صورت میں حال کے اہلِ کتاب (امتِ مسلمہ) کے بارے میں بھی ہے- قرآن میں یہ مثال اِس لیے دی گئی ہے، تاکہ امتِ مسلمہ کے لوگ اُس سے سبق لیں اور اپنے آپ کو اس کے برے انجام سے بچائیں-

قرآن کی اِس آیت میں دراصل امت کے دو دور بتائے گئے ہیں — زوال سے پہلے کی حالت، اور زوال کے بعد کی حالت- اَلَّذِیْنَ حُمِّلُوْا التَّوْرَاةَ سے مراد زوال سےپہلے کی حالت ہے، یعنی وہ ابتدائی حالت جب کہ امت کے اندر دین زندہ ہوتا ہے، وہ مطلوب انداز میں دین پر قائم ہوتی ہے- یہ وہ ابتدائی دور ہے جس کو حدیث میں قرونِ ثلاثہ کہاگیا ہے-original + quote

حدیث کے مطابق، امت کی یہ حالت ابتدائی تین نسلوں تک ہوتی ہے- اِس کے بعد قانونِ فطرت کے مطابق، امت پر زوال آجاتاہے- اِس بعد کے دور کو کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًاکے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے-original + quote

اس زوال یافتہ دور میں امت بظاہر کتاب کی حامل بنی ہوئی ہوتی ہے، لیکن اب کتاب کی اصل روح اس کے اندر باقی نہیں ہوتی- اب اس کا معاملہ ایسے حیوان جیساہوجاتا ہے جس کی پیٹھ پر بظاہر کتابیں لدی ہوئی ہوں، لیکن یہ کتابیں اس کے شعور کا حصہ نہ ہوں— پہلے دور میں امت انسان کی سطح پر حاملِ کتاب ہوتی ہے اور دوسرے دور میں حیوان کی سطح پر حاملِ کتاب-