Al-Risala June 2012

امتِ مسلمہ کا احیا

Al-Risala June 2012 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (22 chapters)
  1. الرسالہ - June 2012
  2. انابت الی اللہ
  3. اللہ کی محبت
  4. کوثر— خیر ِ کثیر
  5. نماز میں خشوع
  6. منصوبۂ خداوندی کی مخالفت
  7. وسیلہ کی حقیقت
  8. صلاۃ وسلام
  9. ایک واقعہ
  10. عجیب اور سبق آموز
  11. دعوتِ قرآن
  12. مسئلہ داخلی ہے، نہ کہ خارجی
  13. امتِ مسلمہ کا احیا
  14. اصلاح کا صحیح طریقہ
  15. مسئلے کا حل
  16. اسلامی تحریک کا ہدف
  17. انسانی ذمّے داری
  18. جذباتی سیاست کا نقصان
  19. مسئلہ یا چیلنج
  20. ایک سبق آموز واقعہ
  21. سوال و جواب
  22. خبر نامہ اسلامی مرکز — 216

امتِ مسلمہ کا احیا

کچھ بچے ایک جگہ بیٹھ کر کھیل رہے تھے۔ ایک شخص نے پوچھا کہ تم لوگ کیا کررہے ہو۔ بچوں نے کہا کہ جھوٹ موٹ کھچڑی پکارہے ہیں۔ پوچھنے والے نے کہا کہ جب جھوٹ موٹ ہی پکانا ہے تو کھچڑی کیوں پکاؤ، پلاؤ پکاؤ۔

یہ لطیفہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ موجودہ زمانے کا ہر رہنما احیائِ ملت کی باتیں کرتاہے، مگر اُن کا احیائِ ملت کا تصور رومانی خواب کے سوا کچھ اورنہیں۔ یہ سب کے سب رہنما ایسی چیزوں کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہیں جو کبھی وقوع میں آنے والی نہیں۔ یہ رہنما عام طور پر درج ذیل قسم کے خوش نما الفاظ بولتے ہیں:

مسلم تہذیب کا احیا (Revival of Muslim Civilization)

مسلم ایمپائر کا احیا (Revival of Muslim Empire)

مسلم خلافت کا احیا (Revival of Muslim Khilafah)

مسلم عظمت کا احیا (Revival of Muslim Glory)

مسلم تاریخ کا احیا (Revival of Muslim History)

یہ نشانے سب کے سب قومی نشانے ہیں اور قومی نشانے کبھی اِس دنیا میں پورے نہیں ہوتے، کیوں کہ قومی نشانوں کو کبھی خدا کی مدد حاصل نہیں ہوتی۔ مسلم امت کا نشانہ صرف ایک ہے، اور وہ دعوت الی اللہ ہے۔ قرآن اور حدیث میں اِس کو ’’شہادت علی الناس‘‘ کہاگیا ہے، یعنی اللہ کے پیغام کو اس کے بندوں تک پہنچانا۔ یہی دعوت الی اللہ امتِ مسلمہ کا واحد مشن ہے۔ یہ مشن اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک غیر سیاسی مشن ہے، اور اپنے طریقِ کار کے اعتبار سے، پوری طرح ایک پُر امن مشن (peaceful mission)۔ اِس دعوتی مشن کے لیے اللہ کی طرف سے یقینی نصرت کا وعدہ ہے۔ یہ مشن تمام انسانوں کے لیے ہے، نہ کہ کسی خاص قوم کے لیے۔