Al-Risala July 2019

منفی تجربہ

Al-Risala July 2019 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (41 chapters)
  1. الرسالہ - July 2019
  2. زندہ انسان
  3. اختلافِ رائے
  4. ٹیک اوے
  5. احساسِ محرومی کیوں
  6. معلومات اور تجزیہ
  7. سادگی کی اہمیت
  8. کامیابی کا راز
  9. اصل سبب جہالت
  10. تجربہ سے سبق سیکھیے
  11. مثبت سوچ کی ضرورت
  12. ڈی کنڈیشننگ
  13. آزادی کا دور
  14. ایک نصیحت
  15. عذر کیا ہے
  16. تعلیم یافتہ کون
  17. کامیاب زندگی کا اصول
  18. کامیاب فارمولا
  19. مس ایڈونچرزم
  20. بڑا آدمی کون
  21. ایک نصیحت
  22. سیکھنے کا عمل
  23. نزاع کا معاملہ
  24. دو قسم کے مسئلے
  25. صحیح طرزِ فکر
  26. گفتگو کااصول
  27. مشورہ یا باہمی مشاورت
  28. ایک لفظ کا فرق
  29. کھونے میں پانا اور پانے میں کھونا
  30. تخلیقی مشورہ
  31. فطرت کو موقع دو
  32. غصے کا ظاہرہ
  33. آنکھوں کے بغیر
  34. باس اِز آلویز رائٹ
  35. آدابِ تنقید
  36. پازیٹیو تھنکنگ، پازیٹیوزم
  37. اپنے خلاف
  38. منفی تجربہ
  39. اسٹیج کا فتنہ
  40. سمجھدار انسان
  41. لرننگ اسپرٹ

منفی تجربہ

منفی تجربہ (negative experience) صرف منفی تجربہ نہیں ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک صدمہ (shock)ہے۔ صدمہ کا تجربہ انسانی ذہن کے لیے ایک فکری طوفان (storm) کے ہم معنی ہوتا ہے، کبھی چھوٹا اسٹارم اور کبھی بڑا اسٹارم۔ منفی تجربہ کے وقت انسان کے ذہن میں طوفان (storm) پیدا ہوتا ہے۔ وہ در حقیقت ایک توانائی (energy) کے اخراج (release) کا واقعہ ہے۔ یہ صدمہ انسان کے لیے مطلق معنوں میں کوئی برائی نہیں ہے۔ اس کا استعمال اس کو اچھا یا برا بناتا ہے۔

اگر آپ اس صدماتی انرجی (shocking energy) کو مثبت رخ پر موڑ سکیں تو ہر صدمہ آپ کے لیے انٹلکچول ڈیولپمنٹ کا ذریعہ بن جائے گا۔ آپ کے سوچنے کی طاقت، آپ کے تجزیہ (analysis)کی طاقت کچھ بڑھ جائے گی۔ آپ کا ذہن غیر تخلیقی ذہن سے بڑھ کر تخلیقی ذہن (creative mind) ہوجائے گا۔ آپ کے ذہن کی ایسی کھڑکیاں کھل جائیں گی، جو اس سے پہلے بند پڑی تھیں۔آپ کسی بھی وقت اس حقیقت کا تجربہ کرسکتے ہیں۔ مثلاً آپ نے کسی سے ایک بات کہی۔ وہ آدمی آپ کی بات کو سن کر غصہ ہوگیا۔ اس نے آپ کو اس کا سخت جواب دیا۔ اس وقت آپ جوابی غصہ نہ کریں، اور ٹھنڈے طریقے سے مثبت انداز میں غور کریں۔ آپ بہت جلد محسوس کریں گے کہ آپ کی قوت تفکیر بڑھ گئی ہے۔ آپ کے ذہن میں نئے نئے پوائنٹ آرہے ہیں۔ آپ کی بات خود آپ کے لیے زیادہ قابل فہم بن رہی ہے۔ آپ کے ذہن کی تخلیقیت میں اضافہ ہورہا ہے۔

جب بھی آپ کو کسی بات سے صدمہ پہنچے تو آپ صرف یہ کیجیے کہ آپ چپ ہوجایئے۔ آپ ری ایکشن کے بجائے، خاموشی کا طریقہ اختیار کیجیے۔ آپ ایک شخص پر سوچنے کے بجائے اصل ایشو پر سوچنا شروع کردیجیے، اور پھر جلد آپ کو ایسا محسوس ہوگا جیسے آپ کی سوچ کے بند دروازے اچانک کھل گئے ہیں۔