Al-Risala July 2016

خوشی کا حصول

Al-Risala July 2016 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (39 chapters)
  1. الرسالہ - July 2016
  2. روزہ اور قرآن
  3. شب قدر کس کے لیے
  4. افضل انسان
  5. امانت کیا ہے
  6. مغفرتِ خداوندی
  7. مشیر کی اہمیت
  8. مقصد شریعت
  9. قرآن ایمپائر
  10. نصرت کا قانون
  11. بیماری کا مثبت پہلو
  12. شیطان سے بچیے
  13. اذیت پر صبر
  14. جامع نصیحت
  15. زوال کی علامت
  16. فتووں کی شریعت
  17. داعی کا اخلاق
  18. غلطی کے بعد
  19. اصل مسئلہ
  20. نفس کا شر کیا ہے
  21. والرُجز فاہجر
  22. مثبت روش کا نتیجہ
  23. مشتعل نہ ہونے کا کرشمہ
  24. مواقع کا استعمال
  25. بڑوں کی صحبت
  26. آخری گیت
  27. منافق کا کردار
  28. خوشی کا حصول
  29. پختگی کیا ہے
  30. میرٹ کلچر، تعلقات کلچر، تزکیہ کلچر
  31. امن کا مسئلہ
  32. جنگ کوئی انتخاب نہیں
  33. سماجی تعلقات
  34. شادی کا مسئلہ
  35. غیر ادیب کی ادبی تخلیق
  36. ریزرویشن کے بغیر
  37. معکوس پبلسٹی
  38. سوال وجواب
  39. خبرنامہ اسلامی مرکز— 243

خوشی کا حصول

خوشی ہر آدمی چاہتا ہے۔ لیکن مطلوب خوشی کسی کو نہیں ملتی۔ چنانچہ خوشی عملا ایک ناقابل حصول چیز بنی ہوئی ہے۔ برٹش فلسفی برٹرینڈ رسل نے خوشی (happiness)کے موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے۔ اس میں وہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں خوشی کسی کے لیے قابلِ حصول نہیں۔ اس معاملے میں اسلام نے ایک فطری فارمولا اختیار کیا ہے۔قرآن میں بتایا گیا ہے اطمینانِ قلب انسان کو صرف اللہ کی یاد (الرعد28 )سے حاصل ہوتا ہے۔ یعنی قرآن میں دو چیزوں کو ایک دوسرے سے الگ کردیا گیا ہے، مادی لذت (physical pleasure) اور ذہنی اطمینان (intellectual satisfaction)۔ اللہ کے نقشۂ تخلیق کے مطابق ، مادی لذت کامل معنوں میں صرف جنت میں ملے گی۔ اس دنیا میں جو چیز مل سکتی ہے، وہ ہے ذہنی اطمینان۔اور وہ بلاشبہ ہر انسان کے لیے قابلِ حصول ہے۔original + quote

ذہنی اطمینان یہ ہے کہ آدمی صورتِ حال کی معقول توجیہہ دریافت کرسکے۔ مثلا آپ ٹرین پکڑنے کے لیے اسٹیشن گیے۔ آپ اسٹیشن پر ٹرین کے مقرر وقت کے مطابق جاتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ ٹرین دو گھنٹہ لیٹ ہے۔ اگر آپ کو لیٹ ہونے کا سبب معلوم نہ ہوتو آپ پریشان ہوجائیں گے۔ لیکن اگر آپ کو معلوم ہوجائے کہ ٹرین کے لیٹ ہونے کا واقعی سبب کیا ہے۔ تو آپ مطمئن ہوجائیں گے اور ذہنی سکون کے ساتھ ٹرین کی آمد کا انتظار کریں گے۔

خالق نےموجودہ دنیا کو امتحان کے لیے پیدا کیا ہے اور آخرت کو انعام کے لیے۔ اس لیے موجودہ دنیا میں مادی لذت کسی کو پورے معنوں میں نہیں مل سکتی۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ آدمی صورتِ حال کی توجیہہ کرکے ذہنی اطمینان حاصل کر لے۔ اسلام کے مطابق خوشی کا فارمولا یہی ہے۔ مادی لذت کے معاملے میں آپ یہ کیجیے کہ ملے ہوئے پر قناعت کیجیے۔ اور نہ ملے ہوئے کو آخرت کے خانے میں ڈال دیجیے۔ اس طرح آپ کا ذہن آزاد ہوجائے گااور واقعات کی صحیح توجیہہ کر کے آپ ذہنی اطمینان حاصل کر لیں گے۔ خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق خوشی کے حصول کا یہی قابلِ عمل فارمولا ہے۔