Al-Risala July 2016

آخری گیت

Al-Risala July 2016 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (39 chapters)
  1. الرسالہ - July 2016
  2. روزہ اور قرآن
  3. شب قدر کس کے لیے
  4. افضل انسان
  5. امانت کیا ہے
  6. مغفرتِ خداوندی
  7. مشیر کی اہمیت
  8. مقصد شریعت
  9. قرآن ایمپائر
  10. نصرت کا قانون
  11. بیماری کا مثبت پہلو
  12. شیطان سے بچیے
  13. اذیت پر صبر
  14. جامع نصیحت
  15. زوال کی علامت
  16. فتووں کی شریعت
  17. داعی کا اخلاق
  18. غلطی کے بعد
  19. اصل مسئلہ
  20. نفس کا شر کیا ہے
  21. والرُجز فاہجر
  22. مثبت روش کا نتیجہ
  23. مشتعل نہ ہونے کا کرشمہ
  24. مواقع کا استعمال
  25. بڑوں کی صحبت
  26. آخری گیت
  27. منافق کا کردار
  28. خوشی کا حصول
  29. پختگی کیا ہے
  30. میرٹ کلچر، تعلقات کلچر، تزکیہ کلچر
  31. امن کا مسئلہ
  32. جنگ کوئی انتخاب نہیں
  33. سماجی تعلقات
  34. شادی کا مسئلہ
  35. غیر ادیب کی ادبی تخلیق
  36. ریزرویشن کے بغیر
  37. معکوس پبلسٹی
  38. سوال وجواب
  39. خبرنامہ اسلامی مرکز— 243

آخری گیت

رتن سنگھ (پیدائش 1927) اردو کے ایک مشہور ادیب ہیں۔ ایک گفتگو کے دوران ان کے انٹرویور ڈاکٹرریحانہ سلطانہ نے ان سے پوچھا، آپ اپنی نمائندہ کہانی کس کہانی کو مانتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا، نمائندہ کہانی تو ابھی مجھے لکھنی ہے۔ کب سرسوتی مہربان ہوجائے، کہہ نہیں سکتا۔ (ماہنامہ اردو دنیا، دہلی، اکتوبر2015، صفحہ 9) نوبیل انعام یافتہ رابندر ٹیگور نے اپنی کتاب گیتانجلی میںاپنے بارے میں لکھا ہے : ساری عمر بینا کے تاروں کو سلجھانے میں بیت گئی، جو انتم گیت میں گانا چاہتا تھا، وہ میں نہ گاسکا۔original + quote

یہ احساس تقریبا ہر ادیب اور صاحبِ قلم کے یہاں پایا جاتا ہے۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان پیدائشی طور پر آئڈلسٹ (idealist) ہوتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اپنے آئڈیل کو لفظوں میں ڈھال سکے، لیکن ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ اس کا سبب ایک فطری تضاد ہے جس سے ہر انسان زندگی میں دوچار رہتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ فطرت سے وہ خود تومعیار پسند مزاج لے کر پیدا ہوتا ہے، لیکن اپنے خیال کےاظہار کے لیے اس کے پاس جو الفاظ ہوتے ہیں، وہ معیار سے کمتر ہوتے ہیں۔ اس تضاد کی بنا پر ہر باذوق انسان کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ عملاً ایک تشنگی میں جیتا ہے، اور آخرکار اسی تشنگی میں مرجاتا ہے ۔

انسان کی اس تشنگی کے پورا ہونے کا مقام صرف جنت ہے۔ یہ تشنگی اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ انسان اس پر سنجیدگی کے ساتھ سوچے، جو آدمی حقیقی معنوں میں متلاشی (seeker) بن کر اس پر غور کرے گا، وہ ضرور اس کا جواب پالے گا۔ اور پھر اس کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس چیز کو اپنی تلاش کی منزل بنائے— انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے جنت کا طالب ہے۔ انسان طالب ہے، اور جنت اس کا مطلوب۔ انسان کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو جانے، اور اس کو اپنا منزل مقصود بنائے۔