Al-Risala July 2014

مبنی بر فرد منصوبۂ تخلیق

Al-Risala July 2014 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (29 chapters)
  1. الرسالہ - July 2014
  2. خوش آمدید، خوش آمدید
  3. علم کی بادشاہت
  4. اعمال کا باطل ہونا
  5. شکایت، شکایت، شکایت
  6. دعوتِ عام کا حکم
  7. اختلاف کے باوجود
  8. مبنی بر فرد منصوبۂ تخلیق
  9. کامیاب طریقہ کار
  10. اولاد کا فتنہ
  11. عوامی جذبات کا استحصال
  12. قومی فخر نہیں
  13. تعمیر ِخویش کاطریقہ
  14. سیکولرزم کیا ہے
  15. مسلمان کی اصل حیثیت
  16. بااصول زندگی
  17. مسلمان عالمی محاصرےمیں
  18. جمہوریت کا دور
  19. امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
  20. پیغمبرانہ کردار
  21. فساد اور اسبابِ فساد
  22. صحیح نقطۂ آغاز
  23. اسلامی تحریک کا اصول
  24. کائنات کی معنویت
  25. تنظیم کافی نہیں
  26. ضرورت اور مقصد
  27. اپنے آپ پر نظر ِثانی
  28. سوال وجواب
  29. خبرنامہ اسلامی مرکز— 227

مبنی بر فرد منصوبۂ تخلیق

انسانی تاریخ(human history)، اپنے آغاز سے لے کر اپنے انجام تک، ایک بامعنی تسلسل (meaningful continuation) ہے- انسانی تاریخ آدم اور حوا کی تخلیق سے شروع ہوئی-آخر میں یہ ہوگاکہ پوری تاریخ میں بکھرے ہوئے منتخب افراد (selected persons)کو یکجا کرکے جنت کی پرامن کالونیوں میں بسا دیا جائے گا، جہاں وہ ہر قسم کے خوف اور اندیشے سے محفوظ ہو کر زندگی گزاریں گے اور کبھی اس سے نکلنا نہ چاہیں گے-

عام طورپر لوگوں کی نظر میں تاریخ کی منفی تصویر ہے- اس کا سبب یہ ہے کہ وہ تاریخ کو اپنے خود ساختہ ماڈل کے اعتبار سے دیکھتے ہیں، وہ تاریخ کو خالق کے نقشۂ تخلیق (creation plan) کی نسبت سے نہیں دیکھتے- لوگ تاریخ کو مبنی بر نظام ماڈل (system-based model)کے اعتبار سے دیکھتے ہیں، جب کہ خالق نے موجودہ دنیا کو افراد کے انتخابی مقام(selection ground)کے اعتبار سے بنایا ہے-

موجودہ دنیا میں ہر فرد حالتِ امتحان میں ہے- جو فرد امتحان میں پورا اترتا ہے، وہ خالق کی انتخابی فہرست میں آجاتا ہے- خالق کا تخلیقی منصوبہ مبنی بر فرد (individual-based) ہے، نہ کہ مبنی برمجموعہ (mass-based)- خالق کا نشانہ پورا مجموعۂ انسانی نہیں ہے، بلکہ وہ استثنائی افراد ہیں جو مختلف قسم کے امتحانی حالات سے گزرتے ہوئے اپنے آپ کو مطلوب ربانی انسان کی حیثیت سے تیار کریں- موجودہ دنیا میں انسانی سرگرمیاں اور خالق کا منصوبہ دونوں متوازی طورپر ساتھ ساتھ چل رہے ہیں- خالق، انسان کی آزادی کو منسوخ کیے بغیر، تاریخ کو اِس طرح مینج (manage)کررہا ہے کہ انسان کے لیے آزادیِ اختیار (freedom of choice) کا موقع پوری طرح باقی رہے اور اِسی کے ساتھ تاریخ میں ربانی تہذیب کا ڈیولپمنٹ بھی مسلسل طورپر جاری رہے-

اِس دو طرفہ عمل (two-fold process) میں بظاہر انسانی سرگرمیوں کے واقعات غالب نظر آتے ہیں- انسانی سرگرمیوں کا عمل بالائے سطح (surface) پر ہوتا ہے- اس کے مقابلے میں، خالق کے منصوبے کا عمل زیر ِ سطح (underneath) جاری رہتا ہے-انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے یہی صورت قابلِ عمل تھی، اِس لیے خالق نے اُس کو اختیار فرمایا-

اِس فرق کی بنا پر خالق کے منصوبے کو سمجھنے کے لیے گہری بصیرت درکار ہے- خالق کے منصوبے کو وہی لوگ دریافت کرسکتے ہیں جو انسانی تاریخ کو مجموعہ کی نسبت سے دیکھنے کے بجائے فرد کی نسبت سے دیکھیں، جو تاریخ کے بظاہر منفی جنگل میں چھپے ہوئے مثبت اجزا کو دریافت کرسکیں-

تاریخ کا مطالعہ خود اپنے ذہنی مفر وضات کی روشنی میں کیا جائے تو مطالعہ کرنے والے کو مایوسی اور کنفیوزن کے سوا کچھ اور نہیں ملے گا، لیکن اگر مطالعہ کرنے والا ایسا کرے کہ وہ خالق کے تخلیقی منصوبے کو اپنا رہنما بنا کر تاریخ کو دیکھے تو وہ پائے گا کہ تاریخ میں ایک با معنی منصوبہ (meaningful planning) موجود ہے- بظاہر مفسد (corrupt) بھیڑ کے درمیان افراد کی سطح پر مطلوب شخصیتیں اُسی طرح موجود ہیں جیسے خاردار جھاڑیوں کے درمیان جا بجا خوب صورت پھول-

اِسی دریافت کا نام معرفت ہے- اِسی معرفت کی بنیاد پر وہ کیرکٹر بنتے ہیں جو اللہ کے یہاں سچائی کی سیٹ (54:55) پر جگہ پانے کے مستحق ہیں- معرفت دنیا کی نسبت سے، ایک دریافت ہے اور آخرت کی نسبت سے، اللہ کا ابدی انعام -original + quote