Al-Risala July 2014

شکایت، شکایت، شکایت

Al-Risala July 2014 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (29 chapters)
  1. الرسالہ - July 2014
  2. خوش آمدید، خوش آمدید
  3. علم کی بادشاہت
  4. اعمال کا باطل ہونا
  5. شکایت، شکایت، شکایت
  6. دعوتِ عام کا حکم
  7. اختلاف کے باوجود
  8. مبنی بر فرد منصوبۂ تخلیق
  9. کامیاب طریقہ کار
  10. اولاد کا فتنہ
  11. عوامی جذبات کا استحصال
  12. قومی فخر نہیں
  13. تعمیر ِخویش کاطریقہ
  14. سیکولرزم کیا ہے
  15. مسلمان کی اصل حیثیت
  16. بااصول زندگی
  17. مسلمان عالمی محاصرےمیں
  18. جمہوریت کا دور
  19. امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
  20. پیغمبرانہ کردار
  21. فساد اور اسبابِ فساد
  22. صحیح نقطۂ آغاز
  23. اسلامی تحریک کا اصول
  24. کائنات کی معنویت
  25. تنظیم کافی نہیں
  26. ضرورت اور مقصد
  27. اپنے آپ پر نظر ِثانی
  28. سوال وجواب
  29. خبرنامہ اسلامی مرکز— 227

شکایت، شکایت، شکایت

قرآن کی سورہ یوسف میں ایک پیغمبر کی زبان سے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: اِنَّمَآ اَشْکُوْا بَثِّیْ وَحُزْنِیْٓ اِلَى اللّٰہِ ( 12:86) یعنی میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کا شکوہ صرف اللہ سے کرتا ہوں-Qur'an

قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی انسان یا انسانوں کے کسی گروہ کے خلاف شکایت میں مبتلا ہوجائے-اِس واضح قرآنی تعلیم کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ تمام مسلمان شکایت کی نفسیات میں جیتے ہیں- ہر ایک نے کوئی دشمن یا ظالم دریافت کر رکھا ہے جس کے خلاف وہ تقریر یا تحریر کی صورت میں شکایت کی زبان استعمال کرتا رہتا ہے- یہ ایک عمومی گمراہی ہے جو مشرق سے مغرب تک تمام مسلمانوں میں کم وبیش چھائی ہوئی ہے-original + quote

اِس کا سبب کیا ہے- اِس کا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے شکایت کو حق وانصاف کے مسئلے سے جوڑرکھا ہے- شعوری یا غیر شعوری طورپر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے خلاف ظلم اور دشمنی کا معاملہ کیا جارہا ہے- ایسی حالت میں از روئے انصاف ہم کو حق ہے کہ ہم شکایت کی زبان بولیں- یہ ایک جائزکردہ برائی (justified evil) کا معاملہ ہے- اِسی کی بابت کہا گیا ہے کہ شکایت کا تعلق کسی دوسرے سے نہیں، بلکہ انسان کی اپنی ذات سے ہے- شکایت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان کے اندر منفی سوچ آجاتی ہے اور منفی سوچ بلا شبہہ تمام نیکیو ں کی قاتل ہے- اِسی بنا پر اسلام میں دوسروں کے لیے دعوت ہے، دوسرے کے لیے شکایت نہیں-موجودہ زمانے کے مسلمان کا کیس ایک لفظ میں وکٹم ہڈ (victimhood) کا کیس ہے- موجودہ زمانے کے مسلمانوں عام طورپر زیادتی کے احساس (feeling of victimhood) میں جی رہے ہیں- موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی اصلاح کا صحیح آغاز یہ ہے کہ اُن کے اِس منفی احساس کو بدل کر اُن کے اندر صحیح احساس پیدا کیا جائے- یہ صرف اُس وقت ہوسکتا ہے جب کہ مسلمانوں کو ذہنی اعتبار سے اِس کے لیے تیار کیا جائے کہ تم جن شکایتوں کو لے کر احساسِ محرومی میں مبتلا ہو، وہ زندگی کے حقائق ہیں، وہ چیلنج کے واقعات ہیں، نہ کہ ظلم کے واقعات-original + quote