Al-Risala july 2008

محبت اور نفرت

Al-Risala july 2008 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (23 chapters)
  1. الرسالہ - july 2008
  2. قربِ قیامت کا مسئلہ
  3. امتِ وسَط
  4. شر میں خیر
  5. ہیمرنگکی زبان
  6. تحقیق کے بغیر
  7. حِلفُ الفُضول
  8. ہر گھر دعوتی مرکز
  9. ٹیلی فون کا دور
  10. فخر، تواضع
  11. ابدی انجام
  12. سر، یہ آپ کے لیے ہے
  13. دعوت الی اللہ کا کام
  14. طوفانِ قیامت
  15. دعوت الی اللہ کے تین دَور
  16. کامیاب زندگی ، ناکام خاتمہ
  17. گنہ گار شخصیت، کم زور شخصیت
  18. کم پر راضی ہونا
  19. خود ساختہ منطق
  20. محبت اور نفرت
  21. جنون درکار ہے
  22. سوال وجواب
  23. خبر نامہ اسلامی مرکز— 186

محبت اور نفرت

ایک مغربی مصنف لینس آرم اسٹرانگ (Lance Armstrong) کی ایک کتاب چھپی ہے۔ یہ کتاب اسپورٹس اور اس کے شائقین کے بارے میں ہے۔ اِس کتاب کا فرانسیسی نام یہ ہے:

Tour de France.

کتاب کے مصنف نے بتایا ہے کہ اسپورٹس کے شائقین کی یہ نفسیات ہے کہ وہ اپنی قوم کے جیتنے والوں سے جذباتی طورپر محبت کرتے ہیں، اور اگر وہ ہار جائیں تو اسی شدت کے ساتھ وہ اُن سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ اس قسم کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے کہ — عوام یا تو آپ سے محبت کرتے ہیں یا آپ سے نفرت۔ اِس معاملے میں ان کے یہاں کوئی درمیانی حالت نہیں:

Either the public loves you or hates you. There is no such thing as a happy middle ground.

عوامی نفسیات کے بارے میں یہ بیان بالکل درست ہے۔ عام لوگ محبت اور نفرت دونوں کے معاملے میں سخت جذباتی واقع ہوئے ہیں۔ یہ بلاشبہہ ایک تباہ کن عادت ہے۔ صحیح یہ ہے کہ محبت اور نفرت کو عقل کے تابع کیاجائے، نہ کہ جذبات کے تابع۔

حدیث میںآیا ہے کہ دوستی کرو تو اعتدال کے ساتھ کرو، شاید تمھارا دوست کبھی تمھارا دشمن بن جائے۔ اور دشمنی کرو تو اعتدال کے ساتھ کرو، شاید تمھارا دشمن کبھی تمھارا دوست بن جائے (أحبب حبیبک ہونًا ما، عسیٰ أن یکون بغیضک یوماً ما۔ وأبغض بغیضک ہونا ما، عسیٰ أن یکون حبیبک یوماً ما) الترمذی، کتاب البرّ والصّلۃ والآداب۔quoted source

یہ ایک نہایت حکیمانہ ہدایت ہے۔ دنیا میں دوستی اور دشمنی دونوں عارضی چیزیں ہیں۔ اِس معاملے میں ضروری ہے کہ آدمی اعتدال پسندی کا رویہ اختیا رکرے، نہ کہ انتہا پسندی کا رویہ۔ اعتدال پسندی کا رویہ ہمیشہ مفید ثابت ہوتا ہے، اور انتہا پسندی کا رویہ ہمیشہ مہلک نتیجے کا سبب بنتا ہے۔