Al-Risala july 2008

کم پر راضی ہونا

Al-Risala july 2008 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (23 chapters)
  1. الرسالہ - july 2008
  2. قربِ قیامت کا مسئلہ
  3. امتِ وسَط
  4. شر میں خیر
  5. ہیمرنگکی زبان
  6. تحقیق کے بغیر
  7. حِلفُ الفُضول
  8. ہر گھر دعوتی مرکز
  9. ٹیلی فون کا دور
  10. فخر، تواضع
  11. ابدی انجام
  12. سر، یہ آپ کے لیے ہے
  13. دعوت الی اللہ کا کام
  14. طوفانِ قیامت
  15. دعوت الی اللہ کے تین دَور
  16. کامیاب زندگی ، ناکام خاتمہ
  17. گنہ گار شخصیت، کم زور شخصیت
  18. کم پر راضی ہونا
  19. خود ساختہ منطق
  20. محبت اور نفرت
  21. جنون درکار ہے
  22. سوال وجواب
  23. خبر نامہ اسلامی مرکز— 186

کم پر راضی ہونا

اِس دنیا میں کامیابی کا سادہ اصول صرف ایک ہے— کم پر راضی ہوجاؤ، تاکہ تم زیادہ کو پاسکو۔ اِس دنیا میں زیادہ چاہنے والے کو کم ملتا ہے، اور جو کم چاہے، وہ زیادہ پانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ اِس دنیا کے لیے یہ ایک ایسا عام اصول ہے جس میں غالباً کوئی استثنا نہیں۔

عالمِ فطرت میںہر چیز کے نمونے موجود ہیں۔ اِسی طرح کامیابی کے مذکورہ اصول کا نمونہ بھی یہاںموجود ہے۔ یہ نمونہ درخت کا نمونہ ہے۔ درخت کیا ہے۔ درخت ایک بیج سے شروع ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے تنا، اپنی شاخوں او راپنی پتیوں کے ساتھ ایک بڑا درخت بن کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ فطرت میں یہ نمونہ اِس لیے ہے، تاکہ انسان اُس سے سبق لے اور اِس فطری اصول کو اختیار کرتے ہوئے وہ اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔اِسی فطری حقیقت کو ایک شاعر نے اِن الفاظ میں نظم کیا ہے:original + quote

اگر کچھ مرتبہ چاہے تو اِس ہستی کو باطل کر

کہ دانا بارور ہوتا ہے پہلے خاک میں مل کر

ہر انسان اپنے اندر غیر معمولی امکانات (potentials) لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ امکانات کسی انسان کے لیے گویا بہ منزلہ بیج ہیں۔ جو انسان اپنے اندر چھپے ہوئے اِس امکان کو جانے اور اُس کو دانش مندانہ طورپر بروئے کار لانے کی کوشش کرے، اُس کے لیے کامیابی اتنا ہی یقینی بن جاتی ہے، جتنا کہ ایک اچھے بیج کو زمین میں ڈالنے کے بعد اُس کا ہرے بھرے درخت کی صورت میں تبدیل ہونا۔

ایک بیج قانونِ فطرت کی مدد سے درخت بنتا ہے۔ اِسی طرح ایک انسان اپنے فطری امکانات کے دانش مندانہ استعمال سے اعلیٰ کامیابی حاصل کرتا ہے۔ درخت کی صور ت میں جو کام فطرت کا قانون کرتا ہے، انسان کی صورت میں وہی کام اس کی اپنی عقل انجام دیتی ہے، بشرطیکہ انسان اپنی عقل کو صبر اور حکمت کے ساتھ استعمال کرسکے۔