Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
خدا کی حکومت
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا مشن یہ ہے کہ وہ دنیا میں خدا کی حکومت قائم کریں۔ مگر یہ خدا کے منصوبۂ تخلیق سے بے خبری کا اعلان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات میں ہر لمحہ خدا کی حکومت کامل طورپر قائم ہے اور مومن وہ ہے جو خدا کی اس قائم شدہ حکومت کا اعتراف کرکے اس کے آگے اختیارانہ طورپر سرنڈر کر دے۔ وہ اپنے آپ کو خدا کی اس قائم شدہ حکومت کا متقیانہ شہری بنا لے۔ اسی اختیاری اطاعت کا دوسرا نام ایمان ہے۔original + quote
قرآن میں ارشاد ہوا ہے أَفَغَیْرَ دِینِ اللّہِ یَبْغُونَ وَلَہُ أَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَکَرْہًا وَإِلَیْہِ یُرْجَعُونَ( 3:83)۔ یعنی کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں۔ حالاں کہ اسی کے حکم میں ہے جو کوئی آسمان اور زمین میںہے، خوشی سے یا ناخوشی سے اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اپنا دین ساری کائنات میں جبراً قائم کررکھا ہے۔ انسان کو یہی دین اپنے ذاتی فیصلہ کے تحت اختیار کرنا ہے۔ اس اختیار کا تعلق اصلاً فرد سے ہے، نہ کہ مخصوص نظام کے قیام سے۔ اگر بالفرض کسی انسانی نظام کے اوپر اللہ کا دین قاہرانہ طاقت کے ذریعہ نافذ کردیا جائے تب بھی اللہ کا مطلوب پورا نہ ہوگا۔ کیوں کہ اللہ کے منصوبہ کے مطابق، جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ ہر فرد اپنے آزادانہ اختیار کے تحت اللہ کا مطیع بن جائے۔original + quote
قرآن میںمختلف انداز سے یہ بات کہی گئی ہے کہ اللہ نے اپنے پیغمبر کے ذریعہ حق اور باطل کو واضح طورپر بیان کردیا ہے۔ اب جو شخص چاہے اُس کا مومن بنے اور جوشخص چاہے اُس کا انکار کردے (الکہف،18:29)۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ یہ چاہتا ہے کہ وہ لوگوں کو اپنے منصوبۂ تخلیق سے آگاہ کرے، پھر دیکھے کہ کون شخص اپنی آزادی کے ساتھاختیارانہ طور پر اطاعت کا ثبوت دے کر انعام کا مستحق بنتا ہے، اور کون شخص آزادانہ نافرمانی میںمبتلا ہوکر ابدی ناکامی سے دو چار ہوتا ہے۔original + quote
خدا کی اطاعت کا بجبر نافذ کیا جانے والا نظام خدا کے تخلیقی منصوبہ کی نفی ہے۔ اس لیے وہ خدا کا مطلوب عمل نہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس طرح قاہرانہ اطاعت کا نظام پوری انسانی تاریخ میں کبھی اس دنیا میں قائم نہیں ہوا، اور اُس کی وجہ یہ تھی کہ وہ خدا کا مطلوب ہی نہ تھا۔