Al-Risala January 2019

آسان تدبیر

Al-Risala January 2019 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (26 chapters)
  1. الرسالہ - January 2019
  2. شادابی لوٹ آ ئی
  3. بحران کا مسئلہ
  4. صاحبِ مطالعہ انسان
  5. تربیتِ افراد
  6. قرآن کی اشاعت
  7. معرفت یا معلومات
  8. انسان رخی سوچ
  9. الرسالہ کا ایک سبق
  10. مشن، انٹرایکشن
  11. اسوہ رسول
  12. الرسالہ مشن
  13. تعمیری مشن، غوغائی سیاست
  14. قاری الرسالہ کا تاثر
  15. اسپریچول کلاس
  16. سی پی ایس انٹرنیشنل
  17. روحانی ارتقا
  18. نقل اور عقل
  19. مین آف مشن
  20. آسان تدبیر
  21. چشمہ کا سبق
  22. خدا کے حق کی قیمت پر
  23. لائن آف ایکشن کا مسئلہ
  24. الرسالہ مشن کے متعلق بعض سوالات
  25. ایک سوال
  26. ایک انٹرویو

آسان تدبیر

میں نے اپنی ڈائری (17 فروری 2004) میں یہ الفاظ لکھے —جب بھی مجھے کسی سے کوئی شکایت پیدا ہوتی ہے تو میںاس معاملہ میں خود اپنی غلطی دریافت کرلیتا ہوں۔ اس کے بعد وہ شکایت اپنے آپ ختم ہوجاتی ہے۔اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا ناخوشگوار باتوں سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں ہر آدمی کو اپنی پسند کے خلاف باتوں کے درمیان جینا پڑتا ہے۔ایسی ایک ناموافق دنیا میں آدمی کس طرح زندگی گزارے ۔ وہ ناخوش گوار تجربات کے درمیان کس طرح اپنے لیے ایک خوش گوار زندگی کی تعمیر کرے۔ اس کا فارمولا صرف ایک ہے — ناخوش گواری کو خوش گواری میں بدل لینا۔

اس دنیا میں ہر قسم کی ترقی کا سب سے بڑا راز مثبت سوچ ہے۔ تمام ترقیاں اسی مثبت سوچ کے ساتھ بندھی ہوئی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ منفی تجربات کے درمیان مثبت سوچ کو کس طرح برقرار رکھا جائے۔ اس کا سب سے آسان فارمولا یہ ہے کہ شکایت پیدا ہوتے ہی آدمی اس کو ڈیفیوز کرکے ختم کردے۔ڈیفیوز کرنے کے لیے آدمی اگر یہ طریقہ اختیار کرے کہ جس سے شکایت ہوئی ہے اُس سے بحث کرکے اُس کو قائل کرے تو اس طرح کی کوشش میں کامیابی تقریباً صفر کے برابر ہے۔ ایسی حالت میں بہترین تدبیر یہ ہے کہ آدمی خوداپنے اندر شکایت کا سبب دریافت کرے۔ اس طرح وہ ایک لمحہ کے اندر اپنے آپ کو معتدل بنا سکتا ہے، وہ کسی تاخیر کے بغیر اپنے اندر مثبت سوچ کا عمل دوبارہ جاری کرسکتا ہے۔

اس تدبیر کی معنویت یہ ہے کہ آدمی کو دوسروں کے اوپر تو کوئی اختیار نہیں۔ مگر ہر آدمی خود اپنے آپ پر پورا اختیار رکھتا ہے۔ شکایت کو دور کرنے کے لیے د وسروں سے آغاز کرنا گویا ناممکن سے آغاز کرنا ہے۔ اس کے مقابلہ میں شکایت کو ختم کرنے کے لیے خود اپنے آپ سے آغازکرنا گویا ممکن سے آغاز کرنا ہے۔ اور جب ممکن سے آغاز کرنے کا راستہ کھلا ہوا ہو تو کوئی نادان ہی ایسا کرسکتا ہے کہ وہ ناممکن سے آغاز کرنے کی ناکام کوشش کرے۔