Al-Risala January 2019

قاری الرسالہ کا تاثر

Al-Risala January 2019 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (26 chapters)
  1. الرسالہ - January 2019
  2. شادابی لوٹ آ ئی
  3. بحران کا مسئلہ
  4. صاحبِ مطالعہ انسان
  5. تربیتِ افراد
  6. قرآن کی اشاعت
  7. معرفت یا معلومات
  8. انسان رخی سوچ
  9. الرسالہ کا ایک سبق
  10. مشن، انٹرایکشن
  11. اسوہ رسول
  12. الرسالہ مشن
  13. تعمیری مشن، غوغائی سیاست
  14. قاری الرسالہ کا تاثر
  15. اسپریچول کلاس
  16. سی پی ایس انٹرنیشنل
  17. روحانی ارتقا
  18. نقل اور عقل
  19. مین آف مشن
  20. آسان تدبیر
  21. چشمہ کا سبق
  22. خدا کے حق کی قیمت پر
  23. لائن آف ایکشن کا مسئلہ
  24. الرسالہ مشن کے متعلق بعض سوالات
  25. ایک سوال
  26. ایک انٹرویو

قاری الرسالہ کا تاثر

ایک قاری الرسالہ نے لکھا ہے: میں نے ماہنامہ الرسالہ نومبر2018 کا ایک مضمون پڑ ھا: خدا کی پہچان (صفحہ 28-29)۔ اس میں جو مثال آپ نے دی ہے ،وہ بہت ہی عمدہ ہے۔ ا س طرح کا انداز کسی کا نہیں ہے سوائے آپ کے۔ اس مثال سے خدا کے انکار کی گنجائش ختم ہوجاتی ہے۔original + quote

انھوں نے اپنا ایک اور تاثر ان الفاظ میں لکھا ہے: آج صبح کو جب سورج طلوع ہو رہا تھا، تو میں نے یہ محسوس کیا کہ سورج اور چاند ہم جہاں جاتے ہیں وہ ہمارے ساتھ چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح اس کو پیدا کرنے والے کی نظر بھی،رحمت بھی،رزق بھی، مسائل بھی، اورمواقع بھی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ستارے ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ جس طرح وہ دور ر ہ کر بھی پاس نظر آتے ہیں، اسی طرح خدا عرش پر ر ہ کر بھی بندوں کی شہ رگ سے بھی قریب ہے۔سورج سے خدا ہمیں یہ احساس دلانا چاہتا ہے کہ اس کا غصہ کیسا ہوگا،اور چاند سے ہمیں اس کی رحمت کی ٹھنڈک، بارش سے اس کی رحمتیں، اور ٹھنڈک سے جنت کا احساس۔میرا یہ ماننا ہے کہ الرسالہ کی نظر سے کائنات کی چیزوں کو دیکھا جائے تو معرفت کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ (ام اشہاد، تامل ناڈو)original + quote

یہ ایک مثال ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جو لوگ برابر ماہنامہ الرسالہ کا مطالعہ کرتے ہیں، ان کے اندر کس قسم کا ذہن پیدا ہوتا ہے۔ یہ ذہن ربانیت کا ذہن ہے۔ الرسالہ کے مضامین اپنے قاری کو رب العالمین کی یاد دلاتے ہیں۔ الرسالہ کے قاری کو الرسالہ کے مضامین میں ربا نیت کی غذا ملتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ الرسالہ میں صحافت کے عمومی رواج کے خلاف نہ مفروضہ ظلم کے خلاف شکایتی باتیں ہوتی ہیں، اور نہ کوئی اور منفی (negative)تذکرہ ہوتا ہے۔ الرسالہ میں ہمیشہ قرآن و حدیث کی تعلیمات پر مبنی مضامین ہوتے ہیں۔ الرسالہ میں ان باتوں کا تذکرہ ہوتا ہے، جن کو قرآن میں اللہ کی آیات (signs of God) کہا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص برابر الرسالہ کو پڑھتا ہے، اس کے اندر خدا رخی (God-oriented) ذہن بنتا ہے۔original + quote