Al-Risala January 2015

مزکىّٰ شخصیت

Al-Risala January 2015 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (42 chapters)
  1. الرسالہ - January 2015
  2. حکمت ِ قرآن
  3. قرآن، کتابِ تدبر
  4. محبت خداوندی
  5. داخل القلب ایمان
  6. ہدایت ، دین ِحق
  7. اللہ کی نعمتیں
  8. انسانی خیر خواہی
  9. جنت کی زندگی
  10. دانش مند کون
  11. تاریخی انتخاب
  12. خدا کی نشانیاں
  13. انصاف کا طریقہ
  14. اعلیٰ اخلاق
  15. موت کا واقعہ
  16. کلمات اللہ کا اظہار
  17. دشمن میں دوست
  18. شکر کی نفسیات میں جینا
  19. مشکل کے ساتھ آسانی
  20. مسائل کی دنیا
  21. شخصیت کاارتقا
  22. قرآن کو کتابِ مہجور بنانا
  23. ذہنی سکون
  24. تاریخ کا قانون
  25. انسان کی تخلیق
  26. قرآن کی زبان
  27. اعلیٰ انسان
  28. غیب پر یقین
  29. مزکىّٰ شخصیت
  30. زوجین کا اصول
  31. امت ِ وسط
  32. ربانی زندگی
  33. ایک اجتماعی حکم
  34. غیر سیاسی مشن
  35. کامیاب تدبیر ِکار
  36. توبہ کا طریقہ
  37. عمل بقدر استطاعت
  38. سیئہ کا حسنہ بن جانا
  39. امن کلچر
  40. تشدد کا خاتمہ
  41. زوالِ امت، اصلاحِ امت
  42. مبنی برشوریٰ نظام

مزکىّٰ شخصیت

قرآن میںاہلِ جنت کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیاہے:جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا ۭ وَذٰلِکَ جَزٰۗؤُا مَنْ تَزَکّٰى ( 20:67) یعنی ان کے لیے ہمیشہ رہنے والے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی- وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بدلہ ہے اس شخص کا جو اپنا تزکیہ کرے- قرآن کی اِس آیت کے مطابق، جنت ان افراد کے لیے ہے، جو اپنے اندر پاکیزہ شخصیت کی تعمیرکریں:original + quote

Paradise is for purified soul

تزکیہ سے مراد کوئی پراسرار عمل نہیں ہے- تزکیہ ایک معلوم واقعہ ہے- قرآن میں جس تزکیہ کا ذکر ہے، وہ پراسرار معنوں میں کوئی دل پر مبنی (heart based) عمل نہیں، بلکہ وہ ایک مبنی برذہن (mind based) عمل ہے- تزکیہ ایک مسلسل شعوری عمل ہے، جس کے ذریعہ آدمی مسلسل غوروفکر کے ذریعہ اپنے ذہن کی تعمیر نو (re-engineering of mind)کرتا ہے-

انسان کےاندر غیر معمولی فکری صلاحیت پائی جاتی ہے- ایمان آدمی کے اندر اس فکری صلاحیت کو بیدار کرتاہے- ایمان کے بعد آدمی کے اندر ایک زندہ شعور جاگتا ہے، جس کے تحت وہ فکر وتدبر کی ایک نئی زندگی شروع کرتا ہے، وہ ہر قسم کی ذہنی سرگرمیوں کے ذریعہ اپنے شعور کو ارتقا یافتہ شعور بناتاہے- وہ اپنی شخصیت کو ایک اعلیٰ ربانی شخصیت میں تبدیل کرتاہے-

کسی انسان کو جنت میں داخلہ مقداری عمل کی بنیاد پر نہیں ملے گا بلکہ جنت صرف اس انسان کو ملے گی، جس نے باعتبار کیفیت (in terms of quality) اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کیا- یہی جنت میں داخلہ کی شرط ہے- مزید یہ کہ جنت میں داخلہ بربنائے استحقاق ہوگا، نہ کہ بربنائے سفارش-تزکیہ کا تعلق کسی محدود مدتی کورس سے نہیں ہے، تزکیہ ایک مسلسل عمل کا نام ہے، جو انسان کی پوری زندگی میں کسی وقفہ کے بغیر جاری رہتا ہے-