Al-Risala January 2014

امت کا زوال

Al-Risala January 2014 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (15 chapters)
  1. الرسالہ - January 2014
  2. فہمِ قرآن کی ایک شرط
  3. امت کا زوال
  4. تقدیرکامسئلہ
  5. ضرورت، نہ کہ فضیلت
  6. خدا ا ور بندہ
  7. قرآن اور نماز
  8. برعکس انجام
  9. سورہ التین کا پیغام
  10. خلافت کا تصور
  11. دورِ مسائل کا خاتمہ
  12. اسلام اکیسویں صدی میں
  13. کامیابی کا اصول
  14. @@@سوال
  15. خبرنامہ اسلامی مرکز — 225

امت کا زوال

حضرت ابو امامہ الباہلی کی ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لینقضنّ عرى الإسلام عروة عروة- فکلما انتقضت عروة، تثبّت الناس بالتی تلیہا- وأولہن نقضا الحکم، وآخرہن الصلاة (مسند احمد: 251/5 ) یعنی اسلام کے حلقے (زنجیر) ٹوٹتے رہیں گے، ایک کے بعد دوسری کڑی- جب ایک کڑی ٹوٹے گی تو لوگ باقی ماندہ کڑی سے جڑ جائیں گے- پہلی کڑی جو ٹوٹے گی، وہ ’الحکم‘ ہے اور آخری کڑی جو ٹوٹے گی ، وہ ’الصلاة‘ ہے-original + quote

حُکم (اقتدار) اور صلاة (نماز) دونوں کا ایک ڈھانچہ (form) ہے اور ایک اس کی روح (spirit)- اِس حدیث میں جس چیز کے ٹوٹنے کا ذکر ہے، وہ حکم اور صلاة کی اسپرٹ ہے، نہ کہ اس کا ظاہری فارم، کیوں کہ کسی بھی امت میں اِن چیزوں کی صرف داخلی اسپرٹ مفقود ہوتی ہے، نہ کہ اس کا ظاہری ڈھانچہ-حدیث کا مطلب یہ ہے کہ فطرت کے قانون کے مطابق، جب امت مسلمہ پر زوال آئے گا تو ایسا نہیں ہوگا کہ وہ صفحۂ ہستی سے مٹ جائے، بلکہ یہ ہوگاکہ بظاہر اس کا ڈھانچہ تو موجود ہوگا، مگرداخلی حقیقت مفقود ہوچکی ہوگی-original + quote

گویا اسلام کا قِشر (چھلکا) موجود ہوگا، لیکن اسلام کا مغز موجود نہ ہوگا- مثلاً ظاہری اعتبار سے، مسلم حکومت موجود ہوگی، لیکن اقامتِ عدل موجود نہ ہوگا، جو کہ حکومت کا اصل مقصود ہوتا ہے- اِسی طرح نماز کا ظاہری ڈھانچہ تو موجود ہوگا، لیکن نمازیوں کے اندر خشوع کی کیفیت موجود نہ ہوگی، جو کہ نماز کی اصل حقیقت ہے- اِسی طرح بظاہر دین کے نام پر بہت سی سرگرمیاں جاری ہوں گی، لیکن یہ سرگرمیاں قومی کلچر کی سرگرمیاں ہوں گی، نہ کہ حقیقی معنوں میں دین ِ خداوندی کی سرگرمیاں-کوئی امت کبھی ظاہری معنوں میں نہیں مٹتی- دورِ زوال میں جو واقعہ پیش آتا ہے، وہ صرف یہ ہوتا ہے کہ معنوی اعتبار سے، امت کمزور یا بے روح ہوجائے-