Al-Risala January 2011

تاریخ کا قانون

Al-Risala January 2011 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (26 chapters)
  1. الرسالہ - January 2011
  2. ہدایت کا اصول
  3. ذلت او ر مسکنت
  4. امتِ محمدی کی حیثیت
  5. مُقری کا رول
  6. سیاسی حقیقت پسندی
  7. دعاء کیا ہے
  8. دعوت کاحوصلہ
  9. لڑ کر مر جانااسلام نہیں
  10. امن کی طاقت زیادہ
  11. سچائی کی تلاش
  12. مغرب میں بسنے والے مسلمان
  13. طبقۂ عوام، طبقۂ خواص
  14. دعوت اور اصلاح کا فرق
  15. تاریخِ بشری کے پانچ دور
  16. عظیم ترین انقلاب
  17. تعارفِ قرآن
  18. مسئلہ کا حل
  19. مال کی حقیقت
  20. امریکا: دوست یا دشمن
  21. صلاحیت کے بغیر اقدام
  22. تیسرا آپشن نہیں
  23. ذہنی ارتقاء
  24. تاریخ کا قانون
  25. سوال وجواب
  26. خبر نامہ اسلامی مرکز 208 —

تاریخ کا قانون

تیرھویں صدی عیسوی میں تاتاری قبائل کوہستانی علاقے سے نکلے۔ وہ بارہ ہزار کی تعداد میں تھے۔ انھوں نے عباسی سلطنت پر حملہ کیا اور اس کا خاتمہ کردیا۔ انھوںنے سمر قند سے لے کر حلب تک زبردست تباہی برپا کی۔ مورخ ابن اثیر (وفات:1234ء) اُس وقت زندہ تھے۔ انھوںنے اِس تباہی کو براہِ راست طورپر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ وہ اپنا تاثر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: لقد بُلی الاسلام والمسلمون فی ہذہ المدۃ بمصائب لم یبتل بہا أحدٌ من الأمم (الکامل فی التاریخ، جلد 12، صفحہ 360 ) یعنی اسلام اور مسلمان اِس زمانے میں ایسی مصیبتوں میں مبتلا ہوئے جیسی مصیبت میں کبھی کوئی قوم مبتلا نہیں ہوئی۔original + quote

مورخ ابن اثیر بعد کے حالات دیکھنے کے لیے زندہ نہیں رہے۔ اگر وہ زندہ رہتے اور بعد کے حالات دیکھتے تو یقینا وہ کہتے کہ تاریخ کو بنانا کسی قوم کے ہاتھ میں نہیں ہے، بلکہ وہ براہِ راست خدا کے ہاتھ میں ہے۔ چناں چہ وہاں یہ واقعہ ہوا کہ نصف صدی کے اندر اسلام کی صداقت غالب آئی اور تاتاریوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔ اِس کے بعد یہی تاتاری تھے جس کی اگلی نسلوں نے مسلم دنیا میں ڈھائی جانے والی مسجدوں کو دوبارہ تعمیر کیا اور عظیم ترک خلافت قائم کی۔

حقیقت یہ ہے کہ اِس دنیا کا نظام تبدیلی کے اصول پر قائم ہے۔ اِس دنیا کے لیے اس کے خالق نے یہ مقدر کردیا ہے کہ یہاں ہر عسر کے بعد یسر آئے، ہر ناکامی کے بعد دوبارہ کامیابی کا دروازہ کھلے۔ ہر شام کے بعد دوبارہ نئی شان کے ساتھ آفتاب نکلے۔

یہ ایک ایسا ابدی قانون ہے جس میں کبھی فرق نہیں آتا۔مزید یہ کہ اِس قانون کا تعلق صرف اہلِ اسلام سے نہیںہے، بلکہ اس کا تعلق تمام انسانوں سے ہے۔ تمام انسانوں کے لیے ان کے رب نے یہ مقدر کردیا ہے کہ اُن پر مختلف قسم کے حالات گزریں، تاکہ وہ اپنے رب کو ہمیشہ دریافت کرتے رہیں۔original + quote