Al-Risala January 2011

سچائی کی تلاش

Al-Risala January 2011 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (26 chapters)
  1. الرسالہ - January 2011
  2. ہدایت کا اصول
  3. ذلت او ر مسکنت
  4. امتِ محمدی کی حیثیت
  5. مُقری کا رول
  6. سیاسی حقیقت پسندی
  7. دعاء کیا ہے
  8. دعوت کاحوصلہ
  9. لڑ کر مر جانااسلام نہیں
  10. امن کی طاقت زیادہ
  11. سچائی کی تلاش
  12. مغرب میں بسنے والے مسلمان
  13. طبقۂ عوام، طبقۂ خواص
  14. دعوت اور اصلاح کا فرق
  15. تاریخِ بشری کے پانچ دور
  16. عظیم ترین انقلاب
  17. تعارفِ قرآن
  18. مسئلہ کا حل
  19. مال کی حقیقت
  20. امریکا: دوست یا دشمن
  21. صلاحیت کے بغیر اقدام
  22. تیسرا آپشن نہیں
  23. ذہنی ارتقاء
  24. تاریخ کا قانون
  25. سوال وجواب
  26. خبر نامہ اسلامی مرکز 208 —

سچائی کی تلاش

ایک انگریزحقیقت کی تلاش میںتھا۔ اِس سلسلے میں اُس نے بہت سی کتابیں پڑھیں۔ ایک کتاب میں اُس نے پڑھا کہ سب سے بڑی عبادت زندہ لوگوں کی خدمت ہے۔ پھر اس کو معلوم ہوا کہ خدمت کے سب سے زیادہ مستحق حیوانات ہیں۔original + quote

چناں چہ اس انگریز نے حیوانات کی خدمت کرنے کا فیصلہ کیا۔ آخر کار وہ ہندستان آگیا۔ اب یہ انگریز اور اس کی بیوی دونوں نئی دہلی میںرہتے ہیں۔ ان کے گھر کے وسیع احاطے میں دس گدھے پلے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں ان گدھوں کی خدمت کرتے ہیں۔

ہمارے ایک ساتھی تلاش کرتے ہوئے اس کے گھر پہنچے۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ وہ بیٹھا ہوا ایک گدھے کی ڈریسنگ (dressing) کررہا ہے۔ ہمارے ساتھی جرأت کرکے اس کے پاس گئے۔ ہمارے ساتھی ان کے پاس قرآن کے انگریزی ترجمہ کی ایک کاپی تھی۔

مذکورہ آدمی سے ہمارے ساتھی نے کہا،کیا میں یہ قرآن آپ کو دے سکتاہوں۔ وہ انگریز کھڑا ہوگیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے قرآن کی کاپی اپنے ہاتھ میں لے لی اور کہا کہ — میں ہمیشہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ سچائی کا دوسرا نقطۂ نظر کیا ہے:

I always wanted to know another version of truth.

اِس قول کو جنرلائز کیا جائے تو اِس میں بیش تر انسانوں کی کہانی چھپی ہوئی ہے۔ وہ لوگ جو کسی چیز کو سچائی سمجھ کر اُسے لئے ہوئے ہیں، وہ سب غیر مطمئن زندگی گزارتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اِس احساس میں رہتے ہیں کہ سچائی شاید کچھ اور ہے، کیوں کہ موجودہ سچائی ان کے مائنڈ کو ایڈریس نہیں کررہی ہے۔

اصل یہ ہے کہ انسان کے اندر سچائی کی طلب پیشگی طورپر موجود ہے۔ وہ اِس طلب کے تحت کسی نہ کسی چیز کو بطور سچائی لے لیتا ہے، لیکن وہ ہمیشہ بے اطمینانی کی نفسیات میں مبتلا رہتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ سمجھتا رہتا ہے کہ حقیقی سچائی شاید کچھ اور ہے جس کو اُسے پانا چاہیے۔