Al-Risala January 2011

امن کی طاقت زیادہ

Al-Risala January 2011 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (26 chapters)
  1. الرسالہ - January 2011
  2. ہدایت کا اصول
  3. ذلت او ر مسکنت
  4. امتِ محمدی کی حیثیت
  5. مُقری کا رول
  6. سیاسی حقیقت پسندی
  7. دعاء کیا ہے
  8. دعوت کاحوصلہ
  9. لڑ کر مر جانااسلام نہیں
  10. امن کی طاقت زیادہ
  11. سچائی کی تلاش
  12. مغرب میں بسنے والے مسلمان
  13. طبقۂ عوام، طبقۂ خواص
  14. دعوت اور اصلاح کا فرق
  15. تاریخِ بشری کے پانچ دور
  16. عظیم ترین انقلاب
  17. تعارفِ قرآن
  18. مسئلہ کا حل
  19. مال کی حقیقت
  20. امریکا: دوست یا دشمن
  21. صلاحیت کے بغیر اقدام
  22. تیسرا آپشن نہیں
  23. ذہنی ارتقاء
  24. تاریخ کا قانون
  25. سوال وجواب
  26. خبر نامہ اسلامی مرکز 208 —

امن کی طاقت زیادہ

2 دسمبر 2009 کی شام کو ایک تعلیم یافتہ مسلمان مسٹر جے ایم بٹ (عمر 60 سال) سے ملاقات ہوئی۔ وہ الرسالہ مشن سے پوری طرح متفق ہیں۔ وہ آج کل افغانستان میں پشتو کے علاقے میں رہتے ہیں۔ وہ وہاں اسلام اور امن کے موضوع پر کام کررہے ہیں۔ وہ پشتو اور فارسی زبان اچھی طرح جانتے ہیں۔ اِس لیے وہ کامیابی کے ساتھ وہاں پُر امن دعوت کا مشن پھیلا رہے ہیں۔

انھوںنے بتایا کہ ایک بار ان کی ملاقات کچھ افغانی انتہا پسندوں سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے افغانی انتہا پسندوں سے کہا کہ آپ لوگ خود کش بم باری کیوں کرتے ہیں۔ افغانی انتہاپسندوں نے کہاکہ ہمارے دشمن کے پاس جو ہتھیار ہے، اُس کا جواب ہمارے پاس نہیں، اِس لیے ہم مجبور ہو کر خود کش بم باری کرتے ہیں۔انھوںنے کہا کہ معاملہ اِس کے برعکس ہے۔ آپ کے پاس جو ہتھیار ہے، اس کا جواب اُن کے پاس نہیں۔ فارسی زبان میں یہ گفتگو اِس طرح تھی:

جوابِ اسلحۂ آنہا پیشِ ما نیست،جوابِ اسلحۂ شُما پیشِ آنہا نیست

انھوں نے کہا کہ آپ تشدد کی طاقت استعمال کررہے ہیں، لیکن اسلام کے مطابق، امن کی طاقت اُس سے زیادہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إنَّ اللہ یعطی علی الرّفق، مالا یعطی علی العنف (صحیح مسلم، کتاب البرّ والصلۃ) یعنی خدا پُرامن عمل پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ متشددانہ عمل پر نہیں دیتا۔ اِس معاملے کی عملی مثال اسلام کی ابتدائی تاریخ میں موجود ہے۔ احد کا غزوہ 3 ہجری میں پیش آیا۔original + quote

اِس میں مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اِس کے بعد 6ہجری میں آپ نے فریقِ ثانی سے امن کا معاہدہ کرلیا، جو معاہدۂ حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ گویا وائلنٹ ایکٹوزم کے بجائے پیس فل ایکٹوزم کو اختیار کرنا تھا۔ اِس کا نتیجہ، قرآن کے الفاظ میں، فتحِ مبین (48: 1)کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یہ متشددانہ بم پر نظریاتی بم کی برتری کی ایک مثال ہے۔original + quote