Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
حکومت الٰہیہ
قرآن میں بتایا گیا ہے :إِنِ الْحُکْمُ إِلَّا لِلَّہِ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِیَّاہُ ذَلِکَ الدِّینُ الْقَیِّمُ وَلَکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُونَ (12:40)۔ یعنی اقتدار صرف اللہ کے لیے ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے۔ مگر بہت لوگ نہیں جانتے۔ قرآن کی اس آیت میں انسان سے یہ نہیں کہا گیا ہے کہ وہ حکومت الٰہیہ جو ابھی قائم نہیں ہے، اس کولڑ کر زمین پر قائم و نافذ کرے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ خود اپنے آپ کو قائم شدہ حکومتِ الٰہیہ کا مطیع بنائے۔ یہ اطاعت امر کا حکم ہے، نہ کہ کسی مفروضہ حکومت یا نظام کے نفاذ کا امر۔original + quote
قرآن کی اس آیت کو اگر اس کے صحیح معنی کے اعتبار سے لیا جائے تو وہ انسان کو یہ تعلیم دیتی ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو حکم خداوندی کا تابعدار بنائے۔ اس کے برعکس، اگر اس آیت کو نفاذ (enforcement) کے معنی میں لیا جائے، تو برعکس طور پر اس کا مطلب یہ بنے گا کہ انسان کو چاہیے کہ وہ با اقتدار لوگوں سے لڑ کر ان سے اقتدار کی کنجیاں چھینے ، اور خود تختِ سلطنت پر قبضہ کرے۔ وہ حاکم بنے، اور دوسروں کو محکوم بنا کر بطور خود خدا کا حکم زمین پر چلائے۔
صحیح تفسیر کے مطابق، قرآن کی یہ تعلیم تمام انسانوں کو یکساں حیثیت دیتی ہے، یعنی آیت کی نظر میں تمام انسان اللہ کے بندے ہیں، اور ہر انسان کو یکساں طور پر یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ رب العالمین کا محکوم سمجھے، اور اللہ کے احکام کی تابعداری میں زندگی گزارے ۔ یہ آیت ایسا نہیں کرتی کہ لوگوں کو دو گروہ میں بانٹے، اور پھر ان میں سے ایک گروہ کو حاکم (ruler) قرار دے، اور ودسرے گروہ کو یہ حیثیت دے کہ وہ محکوم (ruled) بن کر زندگی گزاریں۔
حکمِ الٰہی کا لفظ قرآن میں کسی سیاسی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ عمومی اطاعت کے معنی میں ہے۔ اس سے مراد ایک سلوک (behaviour) ہے، نہ کہ کوئی سیاسی قانون ۔ یہ فرد کو اسلامائز کرنے کا معاملہ ہے، نہ کہ حکومت یا ریاست کو اسلامائز کا معاملہ۔