Al-Risala February 2019

عطیات خداوندی

Al-Risala February 2019 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (34 chapters)
  1. الرسالہ - February 2019
  2. اللہ سے محبت
  3. اللہ کی عظمت
  4. اللہ کی رحمت
  5. تزکیہ کا عمل
  6. عطیات خداوندی
  7. ہدایت کا اصول
  8. بے ادبی کا تصور
  9. دین کا کام
  10. دعوت کے نئے امکانات
  11. مغرب میں بسنے والے مسلمان
  12. دین کا خودساختہ ماڈل
  13. فرضی ماڈل کا نمونہ
  14. جنت کی دریافت
  15. شخصیت کا فریب
  16. پہلے اپنی اصلاح
  17. ای- اتصال
  18. انعام، یا آزمائش
  19. نظری تبلیغ، عملی اقدام
  20. ایک عام غلطی
  21. فطرت کی آواز
  22. ایک تقابل
  23. فریم ورک کا مسئلہ
  24. ایک خط
  25. اختلاط کی اہمیت
  26. خروج کا مسئلہ
  27. روحِ دین
  28. جنّت کا ٹکٹ
  29. روحانیت کیا ہے
  30. دعا کی قبولیت
  31. حق کی مخالفت
  32. اعلیٰ شخصیت
  33. غیر واقعی عذر
  34. خبرنامہ اسلامی مرکز- 266

عطیات خداوندی

قرآن میں ایک حقیقت کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے: وَآتَاکُمْ مِنْ کُلِّ مَا سَأَلْتُمُوہُ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّہِ لَا تُحْصُوہَا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ کَفَّارٌ (14:34)۔یعنی اور اس نے تم کو ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے مانگا۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو تم گن نہیں سکتے۔ بیشک انسان بہت بےانصاف اور بڑا ناشکرا ہے۔original + quote

قرآن کی اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں فطری طور پر انسان کی جو ضرورتیں ہیں، خالق کی طرف سےوہ سب کی سب انسان کو دے دی گئی ہیں۔ اب انسان کو اپنی ضروریات کے لیے تخلیق نہیں کرنا ہے، بلکہ ضروریات کو دریافت کرکے اس کو استعمال (avail)کرنے کی پلاننگ کرنا ہے، تاکہ انسان ان کو پوری طرح استعمال کرسکے۔

ضروریات کی یہ فراہمی صرف ہوا اور پانی تک محدود نہیں ہے، بلکہ دوسری تمام چیزوں تک وسیع ہے۔ مثلا ً حکومت کو لیجیے۔ لوگ حکومت کو سرچشمہ اقتدار سمجھتے ہیں۔ وہ اہلِ حکومت سے حکومت کو چھیننے کے لیے بڑی بڑی لڑائیاں کرتے ہیں۔ حالاں کہ حکومت کا جو اصل مقصد ہے، وہ ہر ایک کو یکساں طور پر حاصل ہے۔ غور کیجیے تو حکومت کی سیٹ (seat) پر بیٹھنے کا موقع کسی ایک شخص کو ملتا ہے۔ لیکن ایک قائم شدہ حکومت کی صورت میں جو امن (peace) قائم ہوتا ہے، اس میں ہر ایک کو حصہ ملتا ہے۔

اس اعتبار سے دیکھا جائے، تو سیاست کے معاملے میں لوگوں کو اقتدار چھیننے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ موجودہ حکومت کے ذریعے حاصل شدہ مواقع کو اپنے اپنے مقصد کے مطابق اویل (avail) کرنے کی ضرورت ہے۔ گویا سیاسی اقتدار کے معاملے میں اصل چیز حاصل شدہ مواقع کو استعمال کرنے کی پلاننگ ہے، نہ کہ اقتدار کی کنجی کو چھیننے کی پلاننگ۔ اسی لیے قرآن میںدوسری چیزوں کی طرح حکومت کو بھی عطیہ خداوندی بتایا گیا ہے (البقرۃ 2:26)۔original + quote