Al-Risala February 2018

وقت کا استعمال

Al-Risala February 2018 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (38 chapters)
  1. الرسالہ - February 2018
  2. قرآن سے رہنمائی
  3. معرفت، نقطۂ آغاز
  4. معرفت کی اہمیت
  5. ابدی جنت
  6. و ٔ طا شدید
  7. حق کی دریافت
  8. اقشعرار کیا ہے
  9. اشمئزاز کیا ہے
  10. احسن العمل
  11. اللہ کی مدد
  12. مدرسہ کے طلبہ کے نام
  13. رب العالمین کا وجود
  14. گرہن، خالق کی ایک نشانی
  15. ایک انسانی کردار
  16. امت کی مسلسل اصلاح کا نظام
  17. جہاد کیا ہے
  18. دعوت ایک سنگین ذمہ داری
  19. اعلان کے بغیر معاہدہ
  20. ظن و تخمین
  21. قرآن میں تدبر
  22. وضوح کا مسئلہ
  23. یہ بھی جھوٹ ہے
  24. فطرت کا نظام
  25. اللہ اکبر کا غلط استعمال
  26. فساد فی الارض
  27. اجتماعی زندگی کا ایک اصول
  28. بڑا فتنہ
  29. فوکس کو سمیٹنا
  30. علمی انداز، صحافتی انداز
  31. اختلاف ایک رحمت
  32. عیب کا تحفہ
  33. مثبت فکر
  34. آج کی نوجوان نسلیں
  35. وقت کا استعمال
  36. غصہ کا مثبت پہلو
  37. ذہنی سکون
  38. خبرنامہ اسلامی مرکز — 257

وقت کا استعمال

ایک حدیث رسول ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے: اگر تم دیکھو کہ قیامت آگئی، اور تمھارے ہاتھ میں ایک پودا ہے، تو اس کو فوراً زمین میں گاڑ دو ( فلیغرسہا )۔مسند البزار، حدیث نمبر7408۔ اس حدیث رسول میں، ایک مثال کی صورت میں وقت کی اہمیت کو بتایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وقت اتنا زیادہ قیمتی ہے کہ اگر تمھارے پاس وقت (time) کا ایک لمحہ (moment) ہو تب بھی ضرور اس کو استعمال (avail) کرو، تمھارا کوئی وقت غیر استعمال شدہ (unavail)نہ رہ جائے۔ تمھاری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وقت کا ہرلمحہ تمھارے لیے ایک کار آمد لمحہ بن جائے۔original + quote

مولانا شبلی نعمانی(1857-1914) نے 1892 میں ایک بحری سفر کیا تھا۔ اس سفر میں انڈیا سے نہر سوئز تک پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ (1864-1930) ان کے ساتھ تھے۔ مولانا شبلی نے اپنی کتاب سفرنامہ روم و مصر و شام میں لکھا ہے کہ سفر کے دوران ایک بار سمندر میں سخت طوفان آگیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جہاز ڈوب جائے گا۔ اس وقت مولانا شبلی پروفیسر آرنلڈ کے کیبن میں گئے۔ انھوں نے دیکھا کہ پروفیسر آرنلڈ خاموشی کے ساتھ ایک کتاب پڑھ رہے ہیں۔ مولانا شبلی نے کہا کہ جہاز ڈوبنے والا ہے ، اور آپ کتاب پڑھ رہے ہیں۔ پروفیسر آرنلڈ نے اطمینان کے ساتھ جواب دیا کہ میں چاہتا ہوں کہ زندگی کا جو لمحہ باقی ہے، اس کو میں استعمال کرلوں۔other source

وقت سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ مگروقت ہر لمحہ بھاگ رہا ہے۔ زمین کے سفر کی رفتار ایک ہزار میل فی گھنٹہ ہے۔ اس کے مقابلے میں روشنی کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سکنڈ ہے۔ وقت کی رفتار اس سے بھی زیادہ ہے۔ مزید یہ کہ جو وقت چلا گیا، وہ دوبارہ واپس آنے والا نہیں۔ جس آدمی کو اس حقیقت کا احساس ہو، وہ وقت کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرے گا۔ وہ چاہے گا کہ وہ دوڑتے ہوئے وقت کو پکڑے۔ وقت کو استعمال کیے بغیر اس کو ہرگز آگے نہ بڑھنے دے۔ ایسے ہی لوگ اپنی زندگی کو کارآمد بناتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ کوئی بڑا کام کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔