Al-Risala february 2017

ایک اجتماعی مسئلہ

Al-Risala february 2017 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (36 chapters)
  1. الرسالہ - february 2017
  2. استقامت کیاہے
  3. ایک سنتِّ رسول
  4. پیغمبر کا نمونہ
  5. امت کا دورِ زوال
  6. والرُجز فاہجر
  7. تاریخ کا سفر
  8. قرآن فہمی
  9. قرآن و سنت کے عجائب
  10. تکرار کی حقیقت
  11. تخلیقی ایمان
  12. اتمام نور
  13. آدم سے مسیح تک
  14. قرآن، کتاب ہدایت
  15. قرآن کا اسلوب
  16. عافیت کی دعا
  17. سزائے قتل
  18. خدا سے ہم کلامی
  19. موقع ومحل کی اہمیت
  20. سکنڈری چوائس
  21. امیج کا مسئلہ
  22. ذہنی تربیت
  23. عدم اطمینان
  24. ایک اجتماعی مسئلہ
  25. غصہ کیوں آتاہے
  26. سوال و جواب
  27. دعوتی سیاحت:
  28. سیلف پروگرامر:
  29. ایج آف دعوہ:
  30. مدعو آپ کے دروازے پر
  31. سماجی مہم، دعوت کا باب
  32. مدعو انتظار میں
  33. جدید کتاب:
  34. خدائی پیغام گھر گھر:
  35. دعوہ بیداری:
  36. آپ کے تاثرات :

ایک اجتماعی مسئلہ

منفی ذہن (negative mind) ہر عورت اور مرد کے اندر اپنے آپ موجود رہتاہے۔ لیکن مثبت ذہن (positive mind) آدمی کو سوچ کر بنانا پڑتا ہے۔ عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ سوچ کر اپنا ذہن نہیں بناتے۔ اس لئے ہر ایک منفی سوچ میں مبتلا رہتاہے۔ یہی وجہ ہےکہ عام طورپر لوگ دوسروں کے بارے میں بہت جلد مخالفانہ رائے قائم کرلیتے ہیں۔ وہ اکثر دوسرے شخص کے منفی پہلو کو لے کر اس کے بارےمیں رائے بناتے ہیں۔ وہ آدمی کے مثبت پہلو کو لے کر رائے نہیں بناتے۔ حالانکہ اگر وہ سوچیں تو وہ پائیں گے کہ ہر ایک کے اندر منفی پہلو کے ساتھ مثبت پہلو بھی موجود رہتاہے۔

اجتماعی زندگی (collective life)کو بہتر بنانے کے لئے سب سے زیادہ اہم اصول یہ ہے کہ آپ دوسرے شخص کے منفی پہلو کو نظر انداز کریں اور مثبت پہلو کو لے کر اس کے بارےمیں رائے بنائیں۔انسانوں کے درمیان حقیقی اتحاد کا یہی واحد اصول ہے۔ کسی سماج میں اتحاد اس لیے نہیں پیدا ہوسکتا کہ لوگ ایسے بن جائیں کہ کسی کو کسی سے شکایت نہ رہے۔ اس قسم کا اتحاد فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ اس لیے وہ عملا بننے والا بھی نہیں۔

اتحاد کا واحد اصول اختلاف کے باوجود متحد ہونا ہے۔ اتحاد ہمیشہ اختلاف کو نظر انداز کرنے سے آتا ہے، نہ کہ اختلاف کو ختم کرنے سے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، زندگی کا نظام تنوع (diversity) پر قائم ہے، نہ کہ یکسانیت (uniformity) پر۔ لوگوں میں یکسانیت پیدا کرکے ان کے درمیان اتحاد قائم کرنے کا فارمولا، ایک ناممکن فارمولا ہے۔ خواہ سیکولر دائرہ ہو یا مذہب کا دائرہ، ہر جگہ اختلاف کو برداشت کرنے سے اتحاد آئے گا، نہ کہ لوگوں میں یکسانیت لانے سے جو کہ کبھی وقوع میں آنے والا ہی نہیں۔