Al-Risala february 2017

والرُجز فاہجر

Al-Risala february 2017 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (36 chapters)
  1. الرسالہ - february 2017
  2. استقامت کیاہے
  3. ایک سنتِّ رسول
  4. پیغمبر کا نمونہ
  5. امت کا دورِ زوال
  6. والرُجز فاہجر
  7. تاریخ کا سفر
  8. قرآن فہمی
  9. قرآن و سنت کے عجائب
  10. تکرار کی حقیقت
  11. تخلیقی ایمان
  12. اتمام نور
  13. آدم سے مسیح تک
  14. قرآن، کتاب ہدایت
  15. قرآن کا اسلوب
  16. عافیت کی دعا
  17. سزائے قتل
  18. خدا سے ہم کلامی
  19. موقع ومحل کی اہمیت
  20. سکنڈری چوائس
  21. امیج کا مسئلہ
  22. ذہنی تربیت
  23. عدم اطمینان
  24. ایک اجتماعی مسئلہ
  25. غصہ کیوں آتاہے
  26. سوال و جواب
  27. دعوتی سیاحت:
  28. سیلف پروگرامر:
  29. ایج آف دعوہ:
  30. مدعو آپ کے دروازے پر
  31. سماجی مہم، دعوت کا باب
  32. مدعو انتظار میں
  33. جدید کتاب:
  34. خدائی پیغام گھر گھر:
  35. دعوہ بیداری:
  36. آپ کے تاثرات :

والرُجز فاہجر

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن توحید کا مشن تھا۔ آپ نے اپنا مشن 610 عیسوی میں قدیم مکہ میں شروع کیا۔ اس وقت ابتدائی دور میں آپ کے لیے قرآن میں جو ہدایات نازل ہوئیں، ان میں سے ایک یہ تھی: وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ (74:5)۔ یعنی رُجز کو چھوڑ دو۔ رجز کا لفظی مطلب گندگی (dirt) ہے۔ یہ لفظ یہاں آپ کے ذاتی کردار کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ دعوت کےطریقہ کار کے اعتبار سے ہے۔original + quote

قدیم مکہ میں رُجز کو چھوڑنے کا مطلب کیا تھا۔ اس کو پیغمبر اسلام کی عملی سیرت کی روشنی میں متعین کیا جائے تو وہ یہ ہوگا— مکہ میں اگر چہ تمھارے لیے ناموافق حالات ہیں، مگر تم اس معاملے میں حکیمانہ طریقہ اختیار کرو، اور چیزوں کو غلط زاویۂ نظر (wrong angle) سے دیکھنا چھوڑ دو۔

اس معاملے کی ایک مثال سورالانشراح میں ان الفاظ میں ملتی ہے: وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ (94:4)۔ یعنی تمھارے مشن کے خلاف لوگ پروپیگنڈہ کررہے ہیں،لیکن تم اس پروپیگنڈے کو پبلسٹی (publicity)کے معنی میں لو، اور اس کو اپنے دعوتی مشن کے لیے ایک موقع (opportunity) کے طور پر استعمال کرو۔original + quote

اس معاملے کی ایک اور مثال یہ ہے کہ قدیم مکہ میںلوگوں نے مقدس کعبہ کے اندر تقریباً تین سو ساٹھ بت رکھ دیے تھے۔ یہ بظاہر ایک اشتعال انگیز بات تھی۔ لیکن پیغمبر اسلام اس پر مشتعل نہیں ہوئے۔ آپ نے وقتی طور پر اس کو نظر انداز کیا۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ کعبہ میں بتوں کی موجودگی کی بنا پر وہاں ہر روز مشرکین کا جو اجتماع ہوتا تھا، اس کو اپنے لیے بطور آڈینس (audience)استعمال کیا۔ آپ خاموشی کے ساتھ وہاں جاتے اور لوگوں کو قرآن سناتے۔ روایات میں اس واقعے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وعرض علیہم الإسلام، وتلا علیہم القرآن(سیرت ابن ہشام، مصر 1955، 1/428)۔original + quote