Al-Risala February 2013

اتمامِ نور

Al-Risala February 2013 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (18 chapters)
  1. الرسالہ - February 2013
  2. اتمامِ نور
  3. اسوۂ رسول
  4. بہتر گھر، بہتر سماج
  5. فضائل کی روایات
  6. تخلیقی ضعف ایک رحمت
  7. شکر کا ایک آئٹم
  8. حساب کا وقت
  9. اسلام فطرت کی آواز
  10. پانچ فقہی اسکول
  11. امت میں اختلاف کا مسئلہ
  12. مخاصمت نہیں
  13. دورِ سائنس اور مذہب
  14. امید کی طاقت
  15. کشمیر میں نئی سوچ کی ضرورت
  16. بابری مسجد: ایک پیغام
  17. سوال وجواب
  18. خبر نامہ اسلامی مرکز — 220

اتمامِ نور

قرآن کی سورہ التحریم کی ایک آیت میں اہلِ ایمان کی بابت یہ الفاظ آئے ہیں: یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰہُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ ۚ نُوْرُہُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَبِاَیْمَانِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۚ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ (66:8) یعنی جس دن خدا، پیغمبر کو اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو رسوا نہیں کرے گا- اُن کا نور اُن کے آگے اور ان کے دائیں طرف دوڑ رہا ہوگا- وہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب، تو ہمارے لیے ہمارے نور کو کامل کردے اور ہماری مغفرت فرما- بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے-original + quote

قرآن کی اِس آیت میں ’نور‘ سے مراد کوئی خارجی نور نہیں ہے، بلکہ اِس سے مراد خود صاحبِ ایمان کی منور شخصیت (radiant personality) ہے- اِسی طرح ’اتمامِ نور‘ سے مراد کوئی خارجی نوعیت کا اتمام نور نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسا واقعہ ہے جو خود صاحبِ ایمان کی اپنی شخصیت کے اندر پیش آئے گا-

اُن کا نور ان کے دائیں اور ان کے آگے دوڑ رہا ہوگا— اِس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی منور شخصیت اتنی زیادہ نمایاں ہوگی کہ وہ لوگوں کو دور سے دکھائی دے گی- سچا مومن جب کوئی عمل کرتا ہے تو اس کے عمل کا خارجی پہلواِس دنیا میں لوگوں کو نظر آجاتا ہے، لیکن اس کے عمل کا باطنی پہلو دکھائی نہیں دیتا-سچے اہلِ ایمان کے عمل کا یہ چھپاہوا پہلو آخرت میں عیاناً ظاہر ہوجائے گا- اِسی حقیقت کو قرآن میں، نورکےدوڑنے سے تعبیر کیاگیا ہے- اتمامِ نور کا مطلب یہ ہے کہ خدایا، جس طرح دنیا میں ہمارے عمل کا خارجی پہلو ظاہرہوا تھا، اُسی طرح تو ہمارے عمل کے داخلی پہلو کو بھی ظاہرکردے-original + quote

مثال کے طورپر قرآن میں اہلِ ایمان کے لیے آیا ہے کہ: اَلَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَا اٰتَوْا وَّقُلُوْبُہُمْ وَجِلَةٌ (23:60)- اِس آیت میں جس مومنانہ کردار کا ذکر ہے، اُس میں دیکھنے والوں کو صرف یہ نظر آئے گا کہ اُس نے مال کا ایک حصہ کسی کو دیا، لیکن اس کے عمل کا دوسرا پہلو کہ اُس وقت اُس کا دل خوفِ خدا کی کس کیفیت سے بھرا ہوا تھا، اُس کو دنیا میں کسی دیکھنے والے نے نہیں دیکھا- آخرت میں یہ ہوگا کہ ایسا مومن اپنی شخصیت کے دونوں پہلوؤں کے ساتھ نمایاں ہوجائے گا-original + quote