Al-Risala December 2019

مشن کا مستقبل

Al-Risala December 2019 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (27 chapters)
  1. الرسالہ - December 2019
  2. اللہ کی معرفت
  3. انسان کی تخلیق
  4. اعترافِ خطا
  5. شکر میں جینا سیکھیے
  6. دنیا کی مصیبت
  7. دو واقعات
  8. رسول اللہ کی سنت
  9. حدیثِ تجدید
  10. مشن کا مستقبل
  11. مضاہاۃ اغیار
  12. اعلیٰ انسان
  13. اصلاح کا آغاز
  14. رد عمل، منصوبہ بندی
  15. اسلامی طرزِ فکر
  16. اسلام دورِ جدید میں
  17. دعوتِ عام کی ذمہ داری
  18. قتال کا معاملہ
  19. تحریر کی ایک صفت
  20. آزمائش کس لیے
  21. عقیدہ اور بین اقوامی معاملات
  22. اسلوبِ کلام
  23. مدعیانہ زبان، علمی زبان
  24. ادبی انقلاب
  25. ایک خط
  26. سوال و جواب
  27. خبرنامہ اسلامی مرکز- 270

مشن کا مستقبل

مشن کے بعض افراد نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ میرے بعد مشن کہیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہو جائے۔ میں نے اس پر غور کیا تو میری سمجھ میں آیا کہ ان حضرات کا شبہ اس لیے ہے کہ وہ غالباً دوسرے مشن پر قیاس کرتے ہوئے اس مشن کو مبنی بر فارم مشن سمجھ رہے ہیں، اور جیسا کہ تجربہ ہے ، مبنی بر فارم مشن کچھ عرصے کے بعد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔

مگر اس معاملے میں سنتِ رسول میں ہمارے لیے ایک مثال ہے۔ میرا خیال ہے کہ حدیثِ قرطاس اسی معاملے میں رہنمائی کرنے کے لیے ہے۔ حدیث قرطاس کوئی پر اسرار چیز نہیں تھی، بلکہ وہی تھی، جو ایک حدیث سے معلوم ہوتی ہے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں:تَرَکْتُ فِیکُمْ أَمْرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِہِمَا:کِتَابَ اللہِ وَسُنَّةَ نَبِیِّہِ (موطا امام مالک، حدیث نمبر 1874)۔ یعنی میں نے تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑ ی ہیں۔ تم گمراہ نہ ہوگے، جب تک تم اس کو پکڑے رہوگے— اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت۔original + quote

اس حدیث کے مطابق، ہدایت یہ ہے کہ پیش آمدہ معاملات میں سنجیدگی کے ساتھ قرآن وحدیث کا حکم معلوم کیا جائے،اور اس کو اختیار کرلیا جائے۔ اس کے برعکس گمراہی یہ ہے کہ اپنے معاملات میں قرآن وحدیث کے سوا دوسری چیزوں سے رہ نمائی لی جانے لگے۔اس حدیث میں اسلام کے معاملہ کو بتایا گیاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ نے کامل ہدایت کا انتظام فرمایا۔ اب جو لوگ اس ہدایت سے فیض حاصل کریں گے، ان کے لیے کامیابی ہے، اور جو لوگ اس کی پیروی نہ کریں، وہ ابدی ناکامی کا شکار ہو کر رہ جائیں گے۔original + quote

امتِ محمدی کی حیثیت یہ ہے کہ وہ خدائی مدد کے تحت ایک محفوظ امت کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ خود اللہ رب العالمین کا کنسرن ہے کہ یہ امت ختم نہ ہو، تاکہ خاتم النبیین کی نمائندگی مسلسل طور پر جاری رہے، اس کا تسلسل کبھی توٹنے نہ پائے۔