Al-Risala December 2019

دو واقعات

Al-Risala December 2019 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (27 chapters)
  1. الرسالہ - December 2019
  2. اللہ کی معرفت
  3. انسان کی تخلیق
  4. اعترافِ خطا
  5. شکر میں جینا سیکھیے
  6. دنیا کی مصیبت
  7. دو واقعات
  8. رسول اللہ کی سنت
  9. حدیثِ تجدید
  10. مشن کا مستقبل
  11. مضاہاۃ اغیار
  12. اعلیٰ انسان
  13. اصلاح کا آغاز
  14. رد عمل، منصوبہ بندی
  15. اسلامی طرزِ فکر
  16. اسلام دورِ جدید میں
  17. دعوتِ عام کی ذمہ داری
  18. قتال کا معاملہ
  19. تحریر کی ایک صفت
  20. آزمائش کس لیے
  21. عقیدہ اور بین اقوامی معاملات
  22. اسلوبِ کلام
  23. مدعیانہ زبان، علمی زبان
  24. ادبی انقلاب
  25. ایک خط
  26. سوال و جواب
  27. خبرنامہ اسلامی مرکز- 270

دو واقعات

دنیا میں دو واقعات ایسے ہیں، جن کا وقت آخری حد تک غیر معلوم ہوتا ہے۔ انسان کی اپنی ذات کے اعتبار سے موت، اور خارجی دنیا کے اعتبار سے زلزلہ۔ یہ دونوں واقعات ایسے ہیں، جو پیشگی اطلاع کے بغیر آتے ہیں۔ علم انسانی کے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں، جس سے ہم پیشگی طور پر موت یا زلزلے کی آمد کو جان سکیں۔

یہ نظام براہ راست طور پر خالق کا مقرر کردہ نظام ہے۔ یہ نظام اس لیے رکھا گیا ہے کہ انسان ہمیشہ الرٹ رہے۔ آدمی ہمیشہ ہوشمندانہ زندگی گزارے۔ آدمی اپنی زندگی کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرے۔ انسان ہر لمحے کو اس طرح استعمال کرے کہ حاصل شدہ وقت کے علاوہ دوسرا وقت کبھی حاصل ہونے والا ہی نہیں۔

اس اعتبار سے موت اور زلزلہ دونوں انسان کے لیے یاددہانی (reminder) ہیں۔ یہ فطری قانون انسان کو وہ واقعات بتاتے ہیں، جو اس کے لیے ذاتی طور پر قابل دریافت نہیں۔ موت اور زلزلہ۔ یہ دونوں انسان کو علامتی طور پر یہ بتاتے ہیں کہ انسان کے لیے کچھ چیزیں ایسی ہیں، جو قابلِ دریافت (discoverable)ہیں، اور کچھ چیزیں ایسی ہیں، جو انسان کے لیے قابلِ دریافت نہیں۔ یہ علم انسان کو مسلسل طور پر بیداری کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور کردیتا ہے۔ انسان مجبور ہوجاتا ہے کہ وہ سوچنے والی زندگی گزارے۔ وہ غفلت کی حالت میں پڑا نہ رہے۔

غفلت کی حالت میں رہنے کا موقع انسان کے لیے نہیں ۔ غفلت کا نقصان یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کے مقصد کو نہ جانے۔ وہ اپنے مقصد کی تکمیل سے محروم رہے، اور بیداری کی حالت میں رہنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کے مقصد کو جانے، اور اپنی پوری کوشش کرکے اس کو مکمل کرے۔اس دنیا میں انسان کے لیے ایک ہی چوائس ہے، اور وہ ہے حالت بیداری میں اپنے آپ کو رکھنا، اور غفلت سے اپنے آپ کو مکمل طو ر پر بچانا۔