Al-Risala December 2018

ٹیک اوے کیاہے

Al-Risala December 2018 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (39 chapters)
  1. الرسالہ - December 2018
  2. کامیاب زندگی کا طریقہ
  3. آخرت کا معاملہ
  4. حجت کا قانون
  5. ایک حدیث قدسی
  6. کنڈیشننگ کا مسئلہ
  7. ماحول کا اثر
  8. مومن کی فراست
  9. داخلی اصلاح کا نظام
  10. بیدار ذہنی
  11. مطالعے کی افادیت
  12. اتباع کا مطلب
  13. رسوخ فی العلم
  14. ایک نصیحت
  15. سیکھنے کا عمل
  16. غلطی کا اعتراف
  17. اختلاف ایک مثبت ظاہرہ
  18. نزاع کا معاملہ
  19. دعوت میں رُجز
  20. انقلاب کا آغاز
  21. گفتگو کااصول
  22. حکمت کی تعلیم
  23. سمجھدار انسان
  24. تجربہ سے سبق سیکھیے
  25. مثبت سوچ کی ضرورت
  26. ٹیک اوے کیاہے
  27. رب العالمین کا شکر
  28. سبق کا پہلو
  29. اختلافِ رائے
  30. تسفیہ یا تنقید
  31. تنقید کا طریقہ
  32. امت کی بیداری
  33. شخصیت کی تبدیلی
  34. ذہن سازی
  35. زندہ قوم
  36. مشورہ یا باہمی مشاورت
  37. ری ایکشن کا طریقہ
  38. ایک لفظ کا فرق
  39. خبرنامہ اسلامی مر کز- 265

ٹیک اوے کیاہے

ایک بار میں لندن کی ایک سڑک پر چل رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک دکان کے سامنے ایک بورڈ لگا ہوا ہے، اس بورڈ پر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا، ٹیک اوے(takeaway)۔ ٹیک اوے کا لفظی مطلب ہے، لے کر جانا۔ پہلے یہ لفظ دکان کے لیے بولا جاتا تھا کہ آپ دکان پرجائیں، اور آپ وہاں اپنا مطلوب سامان مثلاً کھانے کا پیکٹ قیمت ادا کرکے لیں اور چلے جائیں۔ بعد کویہ لفظ عام ہوکر اِس مفہوم میں بولا جانے لگا کہ آپ کسی میٹنگ میں شرکت کریں، اور وہاں سے آپ کوئی آئڈیا یا نئی بات لے کر واپس آئیں:

A key fact, point, or idea to be remembered, typically one emerging from a discussion or meeting.

کوئی تقریر یا تحریر کامیاب تقریر یا تحریر اس وقت ہے، جب ایسا ہو کہ آپ اس تحریر کو پڑھیں یا کسی اجتماع میں اس تقریر کو سنیں، اوراس سے آپ کو کوئی کام کی بات یا کوئی مفید آئڈیا ملے، اور اس کو لے کر آپ واپس جائیں۔ تقریر یا تحریر کی کامیابی کا یہی معیار ہے۔ اگر اس کے برعکس معاملہ ہو، یعنی جس تقریر یا تحریر سے کوئی ایسی بات نہ ملے جو لے جانے کے قابل ہو ، تو آپ نے اپنا وقت ضائع کیا۔ آپ کا پڑھنا بھی بے فائدہ تھا، اور سننا بھی بے فائدہ ۔

مقرر ہو یا محرر ، دونوں کو چاہیے کہ وہ بولنے یا لکھنے سے پہلے اچھی طرح سوچے، اور کوئی ایسی بات متعین کرے، جو دوسروں کو دینے کے قابل ہو۔ پھر یہ بھی ہے کہ وہ بات آپ واضح انداز میں بیان کرسکیں۔ اگر ایسا ہو کہ آپ نے لکھا یا کہا تو اس سے پڑھنے یا سننے والے کو کوئی لے جانے کی بات نہیں ملی تو ایسا لکھنا بھی بیکار ہے، اور پڑھنا بھی بیکار ہے۔

کسی تقریر یا تحریر کی کامیابی کا معیار یہ ہے کہ اس میں پڑھنے یا سننے والے کے لیے حقیقی معنی میں کوئی ٹیک اوے ہو۔ پڑھنے یا سننے والے کو کوئی ایسی بات ملے ، جس کے ذریعے وہ اپنی زندگی کو زیادہ مفید بنا سکے، جو اس کے شخصی ارتقا میں مددگار ثابت ہو۔