Al-Risala December 2018

بیدار ذہنی

Al-Risala December 2018 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (39 chapters)
  1. الرسالہ - December 2018
  2. کامیاب زندگی کا طریقہ
  3. آخرت کا معاملہ
  4. حجت کا قانون
  5. ایک حدیث قدسی
  6. کنڈیشننگ کا مسئلہ
  7. ماحول کا اثر
  8. مومن کی فراست
  9. داخلی اصلاح کا نظام
  10. بیدار ذہنی
  11. مطالعے کی افادیت
  12. اتباع کا مطلب
  13. رسوخ فی العلم
  14. ایک نصیحت
  15. سیکھنے کا عمل
  16. غلطی کا اعتراف
  17. اختلاف ایک مثبت ظاہرہ
  18. نزاع کا معاملہ
  19. دعوت میں رُجز
  20. انقلاب کا آغاز
  21. گفتگو کااصول
  22. حکمت کی تعلیم
  23. سمجھدار انسان
  24. تجربہ سے سبق سیکھیے
  25. مثبت سوچ کی ضرورت
  26. ٹیک اوے کیاہے
  27. رب العالمین کا شکر
  28. سبق کا پہلو
  29. اختلافِ رائے
  30. تسفیہ یا تنقید
  31. تنقید کا طریقہ
  32. امت کی بیداری
  33. شخصیت کی تبدیلی
  34. ذہن سازی
  35. زندہ قوم
  36. مشورہ یا باہمی مشاورت
  37. ری ایکشن کا طریقہ
  38. ایک لفظ کا فرق
  39. خبرنامہ اسلامی مر کز- 265

بیدار ذہنی

قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِہِ صَفًّا کَأَنَّہُمْ بُنْیَانٌ مَرْصُوصٌ (61:4)۔ یعنی اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کے راستے میں اس طرح مل کر لڑتے ہیں گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔Qur'an

اس آیت میں بظاہر قتال کا ذکر ہے۔ لیکن وسیع تر معنی میں اس سے مراد ہر قسم کی دینی جدوجہد ہے۔ وسیع تر معنی میں اس کا مطلب یہ ہے کہ دینی مشن کے لیے اس طرح متحد ہوکر کوشش کرنا کہ آپ کا اختلاف ہرگز اس متحدہ جدو جہد کے لیے رکاوٹ نہ بنے۔

اجتماعی زندگی میں اختلاف کا پیش آنا، ایک فطری امر ہے۔ کوئی بھی اجتماعی معاملہ ہو، اس میں افراد کے درمیان اختلاف کی صورتیں ضرور پیش آتی ہیں۔ لیکن اہلِ ایمان ذہنی ارتقا کے اس درجے پر ہوتے ہیںکہ وہ ہر اختلاف کو مینج کرلیتے ہیں۔ وہ اختلاف کو کسی بھی حال میں دین کی اجتماعی جدو جہد کے لیے رکاوٹ بننے نہیں دیتے۔ اس کی ایک مثال دو صحابی کا یہ واقعہ ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ، قَالَ:کَانَ بَیْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ، وَبَیْنَ سَعْدٍ کَلَامٌ، قَالَ:فَتَنَاوَلَ رَجُلٌ خَالِدًا عِنْدَ سَعْدٍ، قَالَ:فَقَالَ سَعْدٌ:مَہْ، فَإِنَّ مَا بَیْنَنَا لَمْ یَبْلُغْ دِینَنَا(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 3810)۔ یعنی طارق بن شہاب روایت کرتے ہیں کہ خالد بن الولید اور سعد بن ابی وقاص کے درمیان کچھ تکرار ہوگئی۔ اس کے بعد ایک آدمی نے سعد کے پاس خالد کا بُرا ذکر کیا ، تو سعد نے کہا: دور ہوجاؤ، ہمارے درمیان جو کچھ ہے، وہ ہمارے دین تک نہیں پہنچے گا۔original + quote

اسی اجتماعی اسپرٹ کا نام اختلاف کے باوجود متحد ہونا ہے۔ اس طرح کا کردار مینج کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی دو واقعے کو ایک دوسرے سے الگ رکھے، ذاتی اختلاف کا معاملہ الگ، اور مشن کے لیے اتحاد کا معاملہ الگ۔ جو لوگ اس اسپرٹ کے حامل ہوں، ان کا اتحاد کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔