Al-Risala december 2016

دین کی حقیقت

Al-Risala december 2016 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (32 chapters)
  1. الرسالہ - december 2016
  2. دین کی حقیقت
  3. فیصلہ کی بنیاد
  4. انسان کی تخلیق
  5. حق کی آواز کو دبانا
  6. عیب پوشی
  7. اصلاحِ امت
  8. اسلام کے نام پر غیر اسلام
  9. جنت، جہنم
  10. دعوتی منصوبہ
  11. بچوں کی تربیت
  12. فقہی زبان، نفسیاتی زبان
  13. استدراکات عائشہ
  14. پسند، ناپسند
  15. شادی شدہ زندگی
  16. شکایت نہیں
  17. زوجین کا تعلق
  18. ربانی پرسنالٹی
  19. علمی سفر
  20. جنت سے محرومی
  21. قومی مزاج، اسلامی مزاج
  22. بابری مسجد کا سبق
  23. ایک تقابلی مثال
  24. نصرت الٰہی کا قانون
  25. طلاق کا مسئلہ
  26. شباب کا زمانہ
  27. متوازن شخصیت
  28. انسان کی خصوصیت
  29. حقیقت کا اعتراف
  30. حساسیت
  31. سوال و جواب
  32. خبرنامہ اسلامی مرکز— — 247

دین کی حقیقت

قرآن کی سورہ نمبر107 کے الفاظ یہ ہیں:اَرَأَیْتَ الَّذِی یُکَذِّبُ بِالدِّینِ۔ فَذَلِکَ الَّذِی یَدُعُّ الْیَتِیمَ ۔ وَلَا یَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْکِینِ ۔ فَوَیْلٌ لِلْمُصَلِّینَ۔ الَّذِینَ ہُمْ عَنْ صَلَاتِہِمْ سَاہُونَ ۔ الَّذِینَ ہُمْ یُرَاءُونَ ۔ وَیَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ (سورہ الماعون)۔یعنی کیا تم نے نہیں دیکھا اس شخص کو جو جزاء کے دن کو جھٹلا تا ہے۔ ایسا ہی شخص یتیم کو دھکا دیتا ہے۔ اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں ابھارتا۔ پس تباہی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لیے۔ جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔ وہ جو دکھلاوا کرتے ہیں۔ اور معمولی ضرورت کی چیزیں بھی نہیں دیتے۔ قرآن کی اس سورہ میں ایک خصوصی اسلوب کو اختیار کیا گیا ہے۔ اس سورہ میںسب سے پہلے نتیجہ کا ذکر ہے۔ اس کے بعد ان چیزوں کا ذکر ہے، جو کسی انسان کو اس نتیجہ تک پہنچانے والی ہیں۔اس سورہ میںپہلی بات تکذیبِ دین ہے۔ یعنی روز جزاء (Day of Judgement)کو نہ ماننا ۔ جو لوگ دنیا میں اس طرح زندگی گزاریں، جیسے حیوان زندگی گزارتا ہے تو وہ اپنے عمل سے اس بات کا مظاہرہ کررہے ہیں کہ ان کے نزدیک دنیا ایک بے مقصد دنیا ہے۔ وہ کسی مقصد کے بغیر شروع ہوئی، اور کسی مقصد تک پہنچے بغیر ختم ہوجائے گی۔ ایسے لوگوں کے لیے آخری انجام ویل ہے۔ یعنی تباہ کن ناکامی۔ ایسے لوگوں کی ظاہری علامت کیا ہے ۔ وہ اپنے آپ کو اونچا اور دوسروں کو نیچا سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ ایسے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کر پاتے جن کو وہ اپنے مقابلے میں بے زور سمجھتے ہوں۔ مثلا یتیم اور نادار لوگ۔ وہ جو کچھ کماتے ہیں، اس کو صرف وہ اپنا حق سمجھتے ہیں۔ دوسروں کے لیے ان کی کمائی میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ وہ اگر بظاہر دین دار ہوں، تب بھی ان کی دین داری صرف کچھ ظواہر کے معنی میں ہوتی ہے۔ ان کی دین داری دین کی حقیقی اسپرٹ سے خالی ہوتی ہے۔ وہ دوسروں کے لیے معمولی درجہ میں بھی دینے والے نہیں بنتے۔unverified