Al-Risala December 2012

ایمان سے جنت تک

Al-Risala December 2012 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (20 chapters)
  1. الرسالہ - December 2012
  2. ایمان سے جنت تک
  3. اللہ کے گواہ
  4. بائبل کی ایک پیشین گوئی
  5. قلب اور عقل
  6. زندگی کی ایک حکمت
  7. غیر ضروری شبہات
  8. بے بنیاد اندیشہ
  9. مغربی تہذیب کا مسئلہ
  10. فرق کا اصول
  11. دورِ جدید موافقِ اسلام دور
  12. دورِ فتنہ کی واپسی
  13. بچوں کی تربیت
  14. بے فائدہ عمل
  15. شتمِ رسول کا مسئلہ
  16. فطرت کی آواز
  17. تاریخ انسانی کا خاتمہ
  18. ایک خط
  19. سوال وجواب
  20. خبرنامہ اسلامی مرکز — 219

ایمان سے جنت تک

قرآن کی سورہ النحل میں ارشاد ہوا ہے: من عمل صالحاً من ذکر أو أنثى وہو مؤمن فلنحیینّہ حیاة طیبة، ولنجزینہم أجرہم بأحسن ما کانوا یعملون (16:97) یعنی جو شخص کوئی عمل صالح کرے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ہم اس کو زندگی دیں گے، ایک اچھی زندگی- اور جو کچھ وہ کرتے رہے، اُس کا ہم اُن کو بہترین بدلہ دیں گے-original + quote

قرآن کی اِس آیت کے تین حصے ہیں— پہلے حصے میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو شخص حقیقت کے بارے میں سنجیدہ ہو، وہ غور وفکر کے ذریعے ایمان باللہ تک پہنچے اور پھر اس کے مطابق، وہ عملِ صالح کا طریقہ اختیار کرے، ایسا شخص گویا اللہ کی رحمت کے سایے میں آگیا، وہ اللہ کے مطلوب بندوں میں شامل ہوگیا-

دوسری بات ہے ایسے شخص کو ’حیاتِ طیبہ‘ کا ملنا- اِس حیات طیبہ کا تعلق موجودہ دنیا سے ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص ایمان اور عمل صالح کا ثبوت دے، تو اُس کے بعد وہ اللہ کی نصرت کا مستحق بن جاتا ہے، اُس پر فرشتے اترتے ہیں، زندگی کے ہر موڑ پر اس کو وہ مدد ملتی رہتی ہے جس سے اس کے اندر ثابت قدمی پیدا ہو، وہ صحیح اور غلط میں فرق کرتے ہوئے اپنے لیے صحیح کا انتخاب کرے، اللہ کی توفیق سے اس کے اندر وہ شعور پیدا ہوجاتا ہے جو اس کو ہر انحراف (deviation) سے بچائے، اِس طرح وہ اپنے اندر اُس شخصیت (personality) کی تعمیر کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے جو اس کو اللہ کے مطلوب بندوں کی فہرست میں شامل کردے -

آیت کے آخری حصے میں، اجر ملنے سے مراد، آخرت کا اجر ہے- ایسے افراد آخرت کی ابدی زندگی میں جنت میں داخلے کے مستحق قرار دئے جائیں گے-

ان کے اوپر اللہ کا مزید احسان یہ ہوگا کہ آخرت میں ان کو جو بدلہ دیاجائے گا، وہ اُن کے اعمال کے بہتر حصہ (احسنِ عمل) کی نسبت سے دیاجا ئے گا-