Al-Risala December 2011

تجارت کا اصول

Al-Risala December 2011 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (19 chapters)
  1. الرسالہ - December 2011
  2. اہلِ جنت کے دو گروہ
  3. جنت کا سودا
  4. خدا اور بندہ
  5. قابلِ رشک افراد
  6. فہرستِ آرزو
  7. جنت کا تصور
  8. فرد، ریاست
  9. قرآن مین
  10. اعلیٰ شکر
  11. امیج کا مسئلہ
  12. مذہب اور عقلیات
  13. ّ جنت : ایک آفاقی تصور
  14. اعتماد کی اہمیت
  15. تجارت کا اصول
  16. اچانک ترقی، تدریجی ترقی
  17. ترجیح کا مسئلہ
  18. سوال وجواب
  19. خبرنامہ اسلامی مرکز— 214

تجارت کا اصول

انڈیا کے ایک مسلم نوجوان کا واقعہ ہے۔ انھوں نے شہر میں ایک دکان کھولی۔ وہ وہاں بیٹھنے لگے۔ ایک دن اُن کے دادا اُن کی دکان پر آئے۔ اُس وقت مذکورہ نوجوان اپنی دکان پر بیٹھے ہوئے ایک کتاب پڑھ رہے تھے۔ اُن کے دادا نے ان کے ہاتھ سے کتاب چھین لی اور کہا— یہ دکان ہے، یہ لائبریری نہیں۔unverified

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ تجارت کا اصول کیا ہے اور تجارت میں کامیابی کس طرح حاصل ہوتی ہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ جب آدمی تجارت کرے تو تجارت ہی کو وہ اپنا سب کچھ بنا لے، وہ تجارت کے سوا ہر دوسری چیز کو ثانوی (secondary) بنا دے۔ یورپ میں مقیم ایک کامیاب تاجر نے اپنے بارے میں کہا کہ جب میں اپنی دکان پر ہوتا ہوں تو اُس وقت میں دوسری ہر چیز کو بھول جاتا ہوں۔ اُس وقت دکان ہی میرا سول کنسرن (sole concern) بن جاتی ہے۔original + quote

علم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ — علم تم کو اپنا جز صرف اُس وقت دیتا ہے، جب کہ تم اپنا سب کچھ اُسے دے دو (العلم لا یعطیک جزئَ ہ، حتی تعطیہ کُلَّک)۔ یہ بات تجارت کے بارے میں مزید اضافے کے ساتھ درست ہے۔ علم کو اگر آپ اپنا سب کچھ نہ دیں تو آپ کو صرف جزئی نقصان ہوگا، اور اگر آپ تجارت کو اپنا سب کچھ نہ دیں تو آپ کا سارا سرمایہ ہی ختم ہوجائے گا۔original + quote

قدیم زمانے میں، تجارت صرف ایک سادہ کاروبار کی حیثیت رکھتی تھی۔ اُس وقت کوئی شخص جزئی عمل کرکے بھی تاجر بن سکتا تھا، لیکن موجودہ زمانے میں تجارت ایک پیچیدہ کام بن چکی ہے۔ اب تجارت میں کامیابی کے لیے صرف جزئی عمل کافی نہیں۔ موجودہ زمانے کی تجارت اُس میں کلّی شرکت کے بغیر ممکن نہیں، یہ اصول چھوٹے تاجروں کے لیے بھی ہے اور بڑے تاجروں کے لیے بھی۔ جو آدمی تجارت کی اِس شرط کو پورا نہ کرسکتا ہو، اُس کو چاہیے کہ وہ ہر گز تجارت نہ کرے۔ وہ کوئی دوسرا معاشی کام کرے۔ مثلاً کسی ادارے کی ملازمت، وغیرہ۔