Al-Risala december 2009

غیر فطری نظریہ

Al-Risala december 2009 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (18 chapters)
  1. الرسالہ - december 2009
  2. عید ِ اضحی کا پیغام
  3. حج: ایک انتباہ
  4. قربانی اور اسلام
  5. اسلام کے پانچ ارکان
  6. ذبحِ عظیم
  7. حضرت ابراہیم علیہ السلام
  8. علامتی ذبیحہ
  9. قربانی کی حقیقت
  10. حلال اور حرام کا تصور
  11. انسان کی غذائی ضرورت
  12. تاریخ کے فکری مغالطے
  13. استدلال کی نئی بنیاد
  14. غیر فطری نظریہ
  15. انڈیا کے ریفرنس میں
  16. خاتمہ
  17. سوال وجواب
  18. خبر نامہ اسلامی مرکز— 199

غیر فطری نظریہ

جو لوگ کہتے ہیں کہ ویجیٹیرین فوڈ ہی انسان کے لیے صحیح فوڈ ہے، وہ ایک ایسی بات کہتے ہیں جو صرف ان کے اپنے ذہن کی پیداوار ہے۔ ان کے اپنے ذہن کے باہر اس کی کوئی دلیل موجود نہیں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، ان لوگوں کا کلمہ یہ ہے— احساس کو مارنا گناہ ہے، اس کے برعکس احساس کو زندگی دینا نیکی:

Killing of a sensation is sin and vice versa.

یہ ایک خود ساختہ فارمولا ہے اس کی کوئی بنیاد (base) نہ تو فطرت کے قانون میں ہے اور نہ سائنس کی دریافتوں میں ۔ یہ نظریہ مکمل طورپر ایک غیر فطری نظریہ ہے۔ مثلاً یہ لوگ انسانی دانت کی ساخت کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ انسان کے دانت درندہ جانور سے مختلف ہیں، اِس لیے وہ سبزی خور حیوان (herbivorous) ہے، وہ گوشت خور حیوان (carnivorous) نہیں۔ مگر یہ بات درست نہیں۔original + quote

اصل یہ ہے کہ انسان کے دانت درندہ جانور سے مختلف نہیں بلکہ مشابہ ہوتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ درندے جانور کے گوشت کو کچا کھاتے ہیں، اس لیے ان کے دانت مختلف بنائے گئے ہیں۔ لیکن انسان گوشت کو پکا کرکھاتا ہے، اس لیے انسان کے دانت درندہ جانور سے جزئی طور پرمشابہ تو ضرور ہیں لیکن وہ عین اس کے مطابق نہیں۔

جیسا کہ معلوم ہے، سیارۂ زمین کا تقریباً 71 فی صد حصہ سمندر ہے جو کہ پانی سے بھرا ہوا ہے۔ زمین میں خشکی کا حصہ نسبتاً بہت کم ہے۔ جب کہ زرعی پیداوار حاصل کرنے کے لیے خشک زمین ضروری ہے۔ زمین کا یہ دستیاب خشک حصہ تمام انسانوں کے لیے زرعی خوراک فراہم کرنے کے لیے بالکل ناکافی ہے۔ جب کہ اسی محدود خشک حصہ پر انسانی آبادیاں ہیں، بڑے بڑے کارخانے ہیں۔ جنگل اور صحرا اور پہاڑاور جھیل اور دریائیں ہیں۔ ایسی حالت میں اگر صرف زرعی خوراک پر انحصار کرنا ہو تو انسانوں کے بڑے حصے کو فاقہ کشی کا شکار ہونا پڑے گا۔

واضح ہو کہ اس وقت کرہ زمین کے اوپر ساتبلین سے زیادہ انسان آباد ہیں۔ ایسی حالت میں زرعی خوراک کی یہ کمی صرف لحمی خوراک سے پوری کی جاسکتی ہے جیسا کہ دنیا میں ہورہا ہے۔ خالق کو یہ بات معلوم تھی۔ چناں چہ اس نے سمندروں میں نان ویجیٹیرین فوڈ کا بہت بڑا ذخیرہ رکھ دیا۔ اسی کے ساتھ خدا نے فضاؤں میں اڑنے والی چڑیاں بنائیں اور جنگلوں میں مختلف حیوانات پیدا کردیے۔ یہ سب اس لیے ہوا، تاکہ انسان زرعی خوراک کی کمی کو لحمی خوراک کے ذریعے پورا کرسکے۔