Al-Risala December 2008

گمان سے بچنا

Al-Risala December 2008 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (38 chapters)
  1. الرسالہ - December 2008
  2. عید ِ اضحی کا پیغام
  3. صبح کی تلاوت
  4. سیروسیاحت
  5. دعوت، تذکیر
  6. گمان سے بچنا
  7. انسان کی تلاش
  8. مغز اور چھلکا
  9. کبر ِ خفی کا نقصان
  10. خواہش پرستی، یا اصول پسندی
  11. کتابِ تلاوت، یا کتاب ِاطاعت
  12. انسانی تلاش کا جواب
  13. اسلام کیا ہے
  14. ایک سنگین مغالطہ
  15. ذہن سازی
  16. حد کے اندر رہئے
  17. فخر سے غرورتک
  18. جنت کی تلاش
  19. تمکین فی الارض کا معاملہ
  20. امر ِ موعود، امر ِمقصود
  21. دعوہ ایکٹوزم، پولٹکل اسٹیٹس کو ازم
  22. سیاسی اقتدار کی حیثیت
  23. ِختم فتنہ کا دور
  24. معیاری فرد، معیاری سماج
  25. سیاست کی دو قسم
  26. کم زور دفاع
  27. جموں وکشمیر کا مسئلہ
  28. سنتِ یوسفی
  29. بے فائدہ جنگ
  30. آزادی خیر ِاعلیٰ
  31. بے اطمینانی کا سبب
  32. بحران کا مسئلہ
  33. تعمیر کی طاقت
  34. ذہنی ارتکاز کی اہمیت
  35. خود ساختہ معیار
  36. بے مسئلہ انسان
  37. سوال وجواب
  38. خبرنامہ اسلامی مرکز— 190

گمان سے بچنا

قرآن کی سورہ نمبر 49 میں ایک اخلاقی حکم اِن الفاظ میں آیا ہے: یٰأیّہا الذین آمنوا اجتنبوا کثیراً من الظّن، إنّ بعض الظنّ إثم (الحجرات: 12 ) یعنی اے ایمان والو، بہت سے گمانوں سے بچو، کیوں کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔original + quote

ظن کے لفظی معنیٰ گمان (supposition) کے ہیں۔ اِس آیت میں یہ نہیں کہاگیا ہے کہ تمام گمان گناہ ہوتے ہیں، بلکہ یہ فرمایا کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ اِس سے معلوم ہوا کہ گمان کی دو قسم ہے۔ ایک، وہ جو گناہ ہے، دوسرا، وہ جو گناہ نہیںہے۔

گمان یا قیاس کی ایک قسم وہ ہے جس کو مثبت گمان کہہ سکتے ہیں، یعنی کسی کے بارے میں گمان یا قیاس کی بنا پر ایسی بات کہناجس کی نوعیت عیب کی نہ ہو، جس سے آدمی کے بارے میں کوئی بُری رائے قائم نہ ہوتی ہو، جو محض ایک سادہ بیان کی حیثیت رکھتا ہو، جس کو زیر تبصرہ شخص سنے تو وہ اُس کو بُرا نہ مانے۔ ایسا گمان یا قیاس شریعت میں جائز ہے۔

دوسرا گمان وہ ہے جو منفی گمان کی حیثیت رکھتا ہے، یعنی کسی کے بارے میں ایسا ریمارک دینا، جس سے اُس کے اوپر کوئی الزام واقع ہوتا ہو، جس میںاس کی نیت پرحملہ کیاگیا ہو، جو کسی شخص کی کردار کشی (character assasination) کے ہم معنی ہو۔ ایسا گمان منفی گمان ہے اور وہ اسلامی شریعت میں حرام ہے۔

جس سماج میں لوگ ایک دوسرے کے بارے میں منفی گمان کی بنیاد پر بیان دینے لگیں، وہ سماج ایک فاسد سماج بن جائے گا۔ ایسے سماج میں مثبت قدریں (positvie values) فروغ نہیں پائیں گی۔ ایسے سماج میں برائیوں کو فروغ ملے گا، نہ کہ اچھائیوں کو۔ ایسے سماج میں ایک دوسرے پر اعتماد (trust) کرنے کا ماحول ختم ہوجائے گا، حالاں کہ صحت مند سماج کی تعمیرکے لیے اعتماد کا ماحول لازمی طور پر ضروری ہے۔