Al-Risala December 2007

بامقصد انسان

Al-Risala December 2007 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (41 chapters)
  1. الرسالہ - December 2007
  2. ہر حال میں خیر
  3. ذریعہ ٔ سکون
  4. عورت معاونِ حیات
  5. اہلِ بیت
  6. سب سے بڑی نعمت
  7. ایک حدیث
  8. قو ّامیت یا باس ازم
  9. ِصنفی مساوات
  10. ایک شادی یا کئی شادی
  11. زوجین کے درمیان کامل مطابقت
  12. انٹلیکچول پارٹنر
  13. کنڈیشننگ کو توڑنا
  14. باہمی اعتماد
  15. بامقصد انسان
  16. مشن کے بغیر
  17. بے مقصد زندگی
  18. سادگی ایک اصولِ حیات
  19. جذباتیت بمقابلہ انانیت
  20. فارمولا آف تھرٹی سکینڈ
  21. آرٹ آف فیلیر مینج منٹ
  22. لائف مینج منٹ
  23. انتظار کی پالیسی
  24. گھر :بہتر انسان بنانے کا کارخانہ
  25. تعلیم اور خواتین
  26. صورت یا سیرت
  27. لَو میریج ناکام کیوں
  28. غصے پر کنٹرول کیجیے
  29. سختی یا عزم
  30. چھوٹی بات کو بڑی بات نہ بنائیے
  31. عدم مداخلت کی پالیسی
  32. ایک دانش مند خاتون
  33. میکے کے تصور میں جینا
  34. غیر فطری تمنّا
  35. میکے اور سُسرال کا فرق
  36. ایک مشاہدہ
  37. ماؤں کا غلط رول
  38. لاڈ پیار کا نقصان
  39. ماں باپ کا رول
  40. ایک واقعہ
  41. برابری میںنکاح

بامقصد انسان

ایک تعلیم یافتہ مسلمان ہیں۔ وہ دعوت کا کام کافی سرگرمی کے ساتھ کررہے ہیں۔انھوںنے اپنی ایک لڑکی کی شادی ایک نوجوان سے کی، جو کہ ایک مغربی ملک میں رہتے ہیں۔ شادی کے بعد لڑکی اپنے شوہر کے پاس چلی گئی۔ وہاں وہ چند سال رہی۔ اُس کے یہاں ایک بچہ بھی پیدا ہوا، مگر شوہر اور بیوی کے درمیان اختلاف ہوگیا۔ آخر کار لڑکی غصہ ہو کر اپنے باپ کے پاس انڈیا آگئی۔ لڑکی کی زبان سے شکایتوں کو سُن کر اس کے باپ نے یقین کرلیا کہ ان کی لڑکی بے خطا ہے اور سارا قصور اس کے شوہر کا ہے۔

مذکورہ مسلمان سے میری ملاقات ہوئی۔ حالات سننے کے بعد میں نے کہا کہ اِس معاملے میں آپ باپ کے دل سے بول رہے ہیں، آپ داعی کے دل سے نہیں بول رہے ہیں۔ انھوںنے کہاکہ میں نے ٹیلی فون پر اپنے داماد کو سمجھانے کی کوشش کی، مگر وہ بہت سخت(adamant) ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ— میں نہیں بدلوں گا، آپ کی بیٹی کو میرے ساتھ ایڈجسٹ کرنا چاہیے۔original + quote

میں نے کہا کہ اِس قسم کے اختلاف ہر شادی شدہ زندگی میں پیش آتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اختلاف کی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ شوہر کے اندر بُری عادتیں ہوں۔ مثلاً شراب پینا، وغیرہ۔ دوسری قسم کا اختلاف وہ ہے جو مزاجی (temperamental) نوعیت کا ہوتا ہے۔ میںنے کہا کہ میرے اندازے کے مطابق، آپ کے داماد میں پہلی قسم کی خرابی نہیں ہے۔ اِس لیے آپ کو اُسے زیادہ سنجیدگی کے ساتھ نہیں لینا چاہیے۔ موجودہ صورت میں آپ کو چاہیے کہ آپ اپنی بیٹی کو سمجھائیں کہ تم اپنے شوہر سے ایڈجسٹ کرو۔ تم گھر کی زندگی میں اپنے شوہر کو اپنا باس(boss) بنا لو۔ یہی واحد قابلِ عمل صورت ہے۔ اِس کے سوا کوئی اور صورت ممکن نہیں۔میں نے کہا کہ آپ داعی ہیں۔ داعی ایک بامقصد انسان ہوتا ہے۔ اور بامقصد انسان اِس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ وہ اپنے مقصد کے سوا کسی اور چیز کو اپنا مسئلہ بنائے۔ آپ اپنی بیٹی کو سمجھا بُجھا کر اس کے شوہر کے پاس بھیج دیجئے، ورنہ یہ بیٹی آپ کی مقصدی زندگی کا خاتمہ کردے گی۔ اِس کے بعد آپ صرف باپ کی حیثیت سے زندہ رہیں گے، نہ کہ داعی کی حیثیت سے۔unverified