Al-Risala August 2020

مشترک خاندانی نظام

Al-Risala August 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (26 chapters)
  1. الرسالہ - August 2020
  2. اضاعت ِ صلوٰۃ
  3. قرآن کی ایک آیت
  4. صادق انسان
  5. قرآن میں تدبر
  6. تزکیہ کی حقیقت
  7. تخلیقی حمد
  8. اسلامی نظریۂ جنگ
  9. مہدی یا مسیح کی پہچان
  10. انتظار کی مدت ختم
  11. طالب اور مطلوب
  12. دعوتی شعور کا فقدان
  13. عارفانہ دعاء
  14. موت، موت کی یاد
  15. کشتی ٔ نوح کی دریافت
  16. فتویٰ اور فتویٰ ایکٹوزم
  17. مسلم ملٹنسی کا مسئلہ
  18. خود کُش بم باری
  19. مسلم پرسنل لا کا مسئلہ
  20. اپنی غلطیوں کو دریافت کیجئے
  21. ذہانت کا منفی پہلو
  22. مشترک خاندانی نظام
  23. وقت کی اہمیت
  24. سوال وجواب
  25. خبرنامہ اسلامی مرکز — 204
  26. Al-Quran Mission

مشترک خاندانی نظام

مشترک خاندانی نظام (joint family system) شرعی طورپر جائز ہے، لیکن عملی تجربہ بتاتا ہے کہ عام طورپر وہ کامیاب نہیں ہوتا۔ شادی کے بعد شوہر اور بیوی کے درمیان نزاعات کا سبب زیادہ تر مشترک خاندانی نظام ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل طریقہ یہ ہے کہ مشترک خاندانی نظام سے کامل احتراز کیا جائے ۔

مشترک خاندانی نظام کیا ہے۔ مشترک خاندانی نظام دراصل یہ ہے کہ خونی رشتے دار اور غیرخونی رشتے دار ایک ساتھ ایک گھر میں رہیں۔ یہ طریقہ کوئی ناجائز طریقہ نہیں، لیکن یقینی طورپر وہ ایک غیر فطری طریقہ ہے۔ مشترک خاندانی نظام میں جو مسئلے پیدا ہوتے ہیں، وہ تمام تر اِسی غیر فطری زندگی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

کوئی بھی وعظ ونصیحت اِس مسئلے کا حل نہیں۔ اِس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ اِس غیر فطری نظام کو اختیار ہی نہ کیا جائے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اُس وقت تک شادی نہ کی جائے جب تک شادی شدہ جوڑے کے رہنے کے لیے الگ گھر کا انتظام نہ ہوجائے۔ شادی کے بعد لڑکی کی رخصتی اپنے علاحدہ گھر میں ہو، نہ کہ مشترک گھر میں۔ اِس کے سوا اِس مسئلے کا کوئی اور حل نہیں۔

شادی کے بعد علاحدہ گھر کا انتظام کوئی ناممکن چیز نہیں۔ والدین اگر صرف اتنا کریں کہ وہ جہیز اور ولیمہ اور بارات جیسی چیزوں میں جو اخراجات کرتے ہیں، اس کو وہ مکمل طورپر بند کردیں اور ساری رقم صرف گھر کی مد میں لگا دیں تو وہ علاحدہ گھر کا انتظام بآسانی کرسکتے ہیں۔ یہ علاحدہ گھر خواہ چھوٹا ہو، وہ مشترک بڑے گھر سے ہر حال میں زیادہ بہتر ہے۔

اگر والدین کے اندر یہ سوچ پوری طرح موجود ہو تو یقینی طورپر وہ کامیابی کے ساتھ اس کا انتظام کرسکتے ہیں۔ بالفرض اگر کوئی شخص علاحدہ گھر کا انتظام نہیں کرسکتا تو اُس کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ شکایتوں میں جینا چھوڑ دے اور صبر وبرداشت کے ساتھ مشترک خاندان میں رہے۔