Al-Risala August 2019

قرآن، کتاب مہجور

Al-Risala August 2019 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (24 chapters)
  1. الرسالہ - August 2019
  2. حج کا مقصد
  3. دعا کیسے کریں
  4. الخیر فیما وقع
  5. قرآن، کتاب مہجور
  6. دعوت کے کام میں استقامت
  7. اسلامی دعوت
  8. اسلام دورِ جدید میں
  9. فراہی اسکول کا کنٹری بیوشن
  10. عظیم قربانی
  11. دعوہ ایکسپلوزن
  12. دنیاانتظار میں ہے
  13. امن کا مقصد
  14. سیلف گلوری
  15. اسلامی نظام
  16. میل ملاپ کا سماج
  17. ایک سنگین برائی
  18. بڑھاپے کا دور
  19. پختگی کیا ہے
  20. صحیح طرزِ فکر
  21. ہار کے بعد جیت
  22. خواتین کو مشغولیت دیجیے
  23. جاپانی قوم کی ترقی کا راز
  24. خبرنامہ اسلامی مرکز- 268

قرآن، کتاب مہجور

قرآن کی سورہ الفرقان میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:وَقَالَ الرَّسُولُ یَارَبِّ إِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوا ہَذَا الْقُرْآنَ مَہْجُورًا(25:30)۔ یعنی رسول کہے گا کہ اے میرے رب، میری قوم نے اس قرآن کو بالکل چھوڑ دیا تھا۔original + quote

اس آیت سے اولاً وہ لوگ مراد ہیں جن کے سامنے قرآن آتا ہے، مگر وہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔ جیسا کہ مکی دور میں قریش نے کیا۔ تاہم اس نفسیات کا عملی مظاہرہ کبھی ان لوگوں کی طرف سے بھی ہوتاہے جو بظاہر قرآن کو ماننے والوں کی فہرست میں داخل ہوں۔ مولانا شبیر احمد عثمانی اپنی تفسیر قرآن میں آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں:original + quote

’’آیت میں اگرچہ مذکور صرف کافروں کا ہے۔ تاہم قرآن کی تصدیق نہ کرنا، ا س میں تدبر نہ کرنا، اس کی تلاوت نہ کرنا، اس کی تصحیح قرأت کی طرف توجہ نہ کرنا، اس سے اعراض کرکے دوسری لغویات یا حقیر چیزوں کی طرف متوجہ ہونا، یہ سب صورتیں درجہ بدرجہ ہجرانِ قرآن کے تحت داخل ہوسکتی ہیں‘‘۔

قرآن کے ماننے والوں کے لیے قرآن کو ’’کتاب مہجور‘‘ بنانے کی یہ شکل کبھی نہیں ہوتی کہ اس کا احترام وتقدس لوگوں کے دلوں میں باقی نہ رہے۔ برکت اور تقدس کا نشان ہونے کی حیثیت سے وہ ہمیشہ اس کو اپنے طاق کی زینت بنائے رہتے ہیں۔ البتہ وہ اس سے فکری رہنمائی لینا چھوڑ دیتے ہیں۔ خدا کی کتاب میں ان کے لیے ذہنی غذا نہیں ہوتی۔ وہ ان کی حقیقی زندگی کا سرمایہ نہیں بنتی۔ وہ ان کی دنیا پرستانہ زندگی کے لیے ’’برکت کا تعویذ‘‘ تو ضرور ہوتی ہے مگر آخرت کی رہنما کتاب کی حیثیت سے ان کی زندگی میں اس کا کوئی مقام نہیں ہوتا— یہ مطلب ہے خدا کی کتاب کو ’’کتاب مہجور‘‘ بنا دینے کا۔