Al-Risala August 2016

حق کی پکار

Al-Risala August 2016 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (25 chapters)
  1. الرسالہ - August 2016
  2. اللہ کے بندے
  3. خدا کی رہنمائی
  4. محبت کا جذبہ
  5. نفس کا شر کیا ہے
  6. اعلاء کلمۃ الاسلام
  7. حکیمانہ تربیت
  8. تاریخ کا نیا دور
  9. ایک اجتماعی اصول
  10. مومن کی صفات
  11. ماحی کا مطلب
  12. مشن اور تاریخ
  13. فرشتوں پر عقیدہ
  14. دعوتی مشن
  15. دعوت عام، اصلاح امت
  16. پیغامِ کشمیر
  17. حق کی پکار
  18. موت کی یاد
  19. دنیا اور آخرت
  20. ڈرو اس سے جو وقت ہےآنے والا
  21. کلام کا فتنہ
  22. دینی مدارس
  23. اینگر انرجی کا استعمال
  24. سوال و جواب
  25. خبرنامہ اسلامی مرکز— 244

حق کی پکار

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت حق کی ذمہ داری سونپی گئی تو آپ نے مکہ کے باشندوں کو صفا پہاڑی کے پاس جمع کیا اور فرمایا کہ اے لوگو، جس طرح تم سوتے ہو اسی طرح تم مروگے۔ اور جس طرح تم جاگتےہو اسی طرح تم دوبارہ اٹھائے جاؤگے۔ اس کے بعد یا تو ابدی جنت ہے یا ابدی جہنم۔ یہ سن کر ابو لہب نے کہا، تمھارا برا ہو، کیا تم نے ہم کو اسی لئے بلایا تھا (تبا لک، ما جمعتنا إلا لہذا)۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 4971۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ کے سردار بن کر مدینہ میں داخل ہوئے تو اس وقت بھی آپ نے اسی قسم کی تقریر فرمائی۔ اس وقت بھی آپ کے پاس کہنے کی جو سب سے بڑی بات تھی وہ یہ تھی کہ اے لوگو، اپنے آپ کو آگ کے عذاب سے بچاؤ، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ کیوں نہ ہو (اتقوا النار ولو بشق تمرة)۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 1417۔original + quote

اسلامی مرکز کا مقصد اسی پیغمبرانہ دعوت کو زندہ کرنا ہے۔ لوگ مسائل زندگی کے لئے اٹھتےہیں۔ ہم مسائل موت کے لئےاٹھے ہیں۔ کیا کوئی ہے جو اس مشن میں ہمارا ساتھ دے۔ لوگوں کو جنگ اور فساد کے شعلے دکھائی دیتےہیں۔ کیا کوئی ہے جس کو جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلے دکھائی دیتےہوں تاکہ وہ ہمارا ساتھ دے کر دنیا والوں کو جہنم کے شعلوں سے ڈرائے۔لوگوں کو شہروں کی رونقیں دکھائی دیتی ہیں۔ ہم ان انسانوں کی تلاش میں نکلے ہیں جن کو قبرستان کے ویرانے دکھائی دیں۔ ایسے انسانوں سے دنیا پٹی ہوئی ہے جن کو یہ محرومی بیتاب کئےہوئے ہے کہ ان کو کسی ادارہ میں داخلہ نہیں ملا۔ ہم کو وہ انسان درکار ہیں جن کو یہ غم بدحواس کردے کہ کہیں وہ جنت کے داخلہ سے محروم نہ ہوجائیں۔ لوگ دنیا کی بربادی کا ماتم کررہے ہیں۔ ہم ان انسانوں کو ڈھونڈ رہے ہیں جو آخرت کی بربادی کے اندیشے میں دیوانے ہوچکےہوں۔خداکی دنیا میں آج سب کچھ ہو رہا ہے ۔ مگر وہی ایک کام نہیں ہو رہا ہے جو خدا کو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ یعنی آنے والے ہولناک دن سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔ اگر انسان اس پکار کے لئے نہ اٹھیں تو اسرافیل کا صور اسے پکارے گا۔ مگر آہ، وہ وقت جاگنے کا نہیں ہوگا۔ وہ ہلاکت کا اعلان ہوگا نہ کہ آگاہی کا الارم۔(الرسالہ، جنوری 1984)