Al-Risala August 2016

محبت کا جذبہ

Al-Risala August 2016 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (25 chapters)
  1. الرسالہ - August 2016
  2. اللہ کے بندے
  3. خدا کی رہنمائی
  4. محبت کا جذبہ
  5. نفس کا شر کیا ہے
  6. اعلاء کلمۃ الاسلام
  7. حکیمانہ تربیت
  8. تاریخ کا نیا دور
  9. ایک اجتماعی اصول
  10. مومن کی صفات
  11. ماحی کا مطلب
  12. مشن اور تاریخ
  13. فرشتوں پر عقیدہ
  14. دعوتی مشن
  15. دعوت عام، اصلاح امت
  16. پیغامِ کشمیر
  17. حق کی پکار
  18. موت کی یاد
  19. دنیا اور آخرت
  20. ڈرو اس سے جو وقت ہےآنے والا
  21. کلام کا فتنہ
  22. دینی مدارس
  23. اینگر انرجی کا استعمال
  24. سوال و جواب
  25. خبرنامہ اسلامی مرکز— 244

محبت کا جذبہ

انسان کے اندر محبت کا جذبہ فطری طور پر پایا جاتا ہے، وہ نہایت گہرائی کے ساتھ ہر انسان کے اندر موجود ہے۔ محبت کے جذبے کو اگر خدا کے لیے خالص کیا جائے تو وہ توحید ہے، اور اگر ایسا ہو کہ محبت کا کوئی اور آبجکٹ (object of love) بن جائے تو وہ غلط ہے، اور اسی کا نام شرک ہے۔

قرآن میں اہل ایمان کی ایک صفت ان الفاظ میں بتائی گئی ہے:وَالَّذِینَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّہِ (2:165)۔ اور جو اہلِ ایمان ہیں ، وہ سب سے زیادہ اﷲ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ حُب شدید کا مطلب اسٹرانگ افکشن (strong affection) ہے۔ اس قسم کا اسٹرانگ افکشن صرف اللہ رب العالمین سے ہونا چاہیے۔original + quote

انسان کے لیے سچائی سے انحراف کا سب سے بڑا سبب ڈسٹریکشن (distraction) ہوتا ہے۔ اس معاملے میں محبت کا رول سب سے زیادہ اہم ہے۔ کسی انسان کو اگر اللہ کے سوا کسی اورسے حُب شدید ہو جائے تو وہ انحراف یا ڈسٹریکشن کی ایک صورت ہو گی۔ اور اس قسم کا انحراف یا ڈسٹریکشن کسی انسان کے لیے بے حد سنگین ہے۔ وہ انسان کو راہ راست سے ہٹا دیتا ہے۔

آدمی کو جس سے حُب شدید ہو اسی کے لحاظ سے اس کی اخلاقیات بنتی ہیں۔ اسی کے لحاظ سے اس کی سوچ بنتی ہے۔ اسی کے لحاظ سے اس کی گفتگو کا انداز متعین ہوتا ہے۔ اسی کے لحاظ سے اس کے معاملات تشکیل پاتے ہیں۔ اسی کے لحاظ سے اس کی زندگی کا رخ متعین ہوتا ہے۔

ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ اس کا جائزہ لیتا رہے کہ اس کے حُب شدید کا جذبہ کس کے لیے ہے۔ اگر اس کے اندر حُب شدید کا جذبہ اللہ کے لیے ہے، تو اس کو شکر کرنا چاہے۔ اور اگر اس کے اندرحُب شدید کا جذبہ اللہ کے سوا کسی اور کے لیے ہو تو آدمی کو چاہیے کہ وہ اس کی تصحیح کرے۔ اس معاملے میں وہ اپنی اصلاح کرے۔وہ کوشش کرے کہ موت سے پہلےوہ سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ سے محبت کرنے والا بن جائے۔ اس معاملے میں کوئی انسان تاخیر کا تحمل نہیں کرسکتا ہے۔