Al-Risala August 2015

زمین میں خلافت

Al-Risala August 2015 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (23 chapters)
  1. الرسالہ - August 2015
  2. معرفت کا رزق
  3. جنت کی دنیا
  4. کائناتی عبادت
  5. تدبر کی اہمیت
  6. موت کے بعد
  7. پیغمبر کی حیثیت
  8. نتیجہ ایک اشارۂ ربانی
  9. فتنۂ دہیماء: فکری کنفیوژن
  10. شرحِ صدر کیا ہے
  11. تربیت کا ٹکنکل طریقہ
  12. صبر واعراض کا اصول
  13. توحید اور عدل
  14. زمین میں خلافت
  15. ٹیم کی تربیت
  16. دعوت کی ذمے داری
  17. فطرت کا ایک قانون
  18. مدعو فرینڈلی روش
  19. فکر کی تشکیل
  20. اسلام اور دورِ جدید
  21. متبادل کو جانیے
  22. زندہ قومیں کس طرح کام کرتی ہیں
  23. خبرنامہ اسلامی مرکز — 236

زمین میں خلافت

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے جب انسان کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو فرمایا: إِنِّی جَاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلِیفَة (2:30) یعنی میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ خلیفہ کا مطلب جانشین یا قائم مقام (successor) ہے، یعنی کسی کی جگہ لے کر اس کی طرف سے اس کا کام کرنے والا۔ اس تشریح کے مطابق اس آیت میں خلیفہ سے مراد خلیفۃ اللہ فی الارض، یعنی زمین میں اللہ کا خلیفہ ہے۔original + quote

خلیفہ ایک انسانی زبان کا لفظ ہے۔ انسانی تصور کے مطابق خلیفہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان کی وفات کے بعد دوسرا انسان اس کی جگہ آکر اس کی قائم مقامی کرے۔ خلیفہ کا یہ مفہوم انسان کے اعتبار سے ہے۔ جب یہ لفظ اللہ کی نسبت سے بولا جائے تو یہاں موت کے بجائے غیب مراد ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ جو غیب میں ہے اس کی نمائندگی شہود میں کرنا۔اس آیت میں خلافت یا نمائندگی سے مراد سیاسی نمائندگی نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان اللہ کا نائب بن کر زمین پر اللہ کی حکومت قائم کرے۔ یہ خلافت اعلان حق کے معنی میں ہے، نہ کہ تنفیذ احکام کے معنی میں۔ اس اعلان سے مراد وہی چیز ہے، جس کو فرشتوںنے تحمید اور تقدیس (2:30) کے الفاظ میں بیان کیا تھا۔ اللہ کی تحمید اور تقدیس ایک اعلی ترین مقصود ہے جس کو کائنات کی ہرچیز ودیعۃً (inherently) کر رہی ہے۔ اب اللہ کو منظور ہوا کہ یہ کام انسان ذاتی دریافت (self discovery) کے طور پر کرے۔original + quote

کائنات میں انسان ایک خصوصی تخلیق کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ مستقبل میں اللہ کی آیات کی تبیین آفاق و انفس (43:53) کی زبان میں کی جائے گی۔ اللہ کو مطلوب تھا کہ ایک مخلوق ہو جو ذاتی دریافت کی سطح پر اس تحمید و تقدیس کا اظہار کرے۔original + quote

تحمید و تقدیس سے مراد محض تعریف نہیں ہے، بلکہ کائنات کی سطح پر حقیقت ربانی کا اعلان کرنا ہے، یعنی تخلیق (creation) کو خالق کے خانے میں ڈالنا۔ براہ راست طور پر یہ کام مومن کو انجام دینا ہے، لیکن بالواسطہ طور پر ساری انسانیت کو اس کے حق میں تائیدی رول ادا کرنا ہے، حتی کہ غیر اہل ایمان کو بھی۔